تیونس: بحران کے خاتمے کیلیے اسلامی حکومت مستعفی ہونے کو تیار

حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات دو دن بعد شروع ہونگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کی حکمران جماعت کے سنئیر عہدیدار لطفی زیتون کا کہنا ہے کہ تیونس کی اسلام پسند حکومت سیکولر اپوزیشن کے ساتھ اگلے ہفتے عبوری حکومت کی تشکیل اور نظام اور نئے انتخابات کے اہتمام کی خاطر لئے شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد مستعفی ہونے پر تیار ہو گئی ہے۔

ان مذاکرات کا مقصد اسلام پسند اتحادی حکومت اور حزب اختلاف کی سیکولر جماعتوں کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری بحران کو ختم کرنا ہے تاکہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے اور اور سیاسی اختلافات کو سیاسی جماعتیں سیاسی انداز سے ہی طے کریں۔ نہ کہ ملک ایک مرتبہ پھر آمریت کی طرف لوٹ جائے۔

حکمران اسلامی جماعت النہضہ اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی کے فرائض انجام دینے والی تیونس کی بااثر لیبر یونین یو جی ٹی ٹی اور النہضہ کے درمیان یہ تجویز سامنے آئی تھی وہ تین ہفتوں کے لئے مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے اور اس کے بعد وہ اقتدار سے ہٹ جائے گی اور انتظامی معاملات عبوری حکومت کو سونپ دئیے جائیں گے اور نئے الیکشنز کی تاریخ طے کر دی جائیگی۔

النہضہ کے عہدیدار لطفی زیتون کا کہنا ہے کہ،"مذاکرات کا سلسلہ پیر یا منگل کے روز شروع ہو گا۔ النہضہ نے یہ منصوبہ ملک کو اس سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے منظور کیا ہے اور اس مقصد کو پانے کے لیے کسی قسم کی شرائط عائد نہیں کی گئی ہیں۔"

سنہ 2011ء میں زین العابدین بن علی کے عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے نکلنے سے اب تک تیونس کی سیاست میں اسلام کے کردار پر کافی تقسیم پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ النہضہ مسلم دنیا کے سب سے سیکولر اقوام میں سے ایک قوم پر اسلامی ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ النہضہ کا موقف ہے کہ عوام نے اسے مینڈیٹ دیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں