عراق میں تشدد کی لہر، گیارہ ہلاک، درجنوں زخمی

ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں ہفتے کے روز پرتشدد واقعات کے باعث کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں سویلن اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق عسکریت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد کے جنوب مشرقی علاقے ترمییہ میں عسکریت پسندوں نے چار مکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ یہ چاروں مکان پولیس اہلکاروں کی ملکیت تھے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب اہل خانہ سو رہے تھے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہو گئے۔

ایک اور واقعہ جو بغداد کے جنوب مشرق ہی میں پیش آیا ہے، میں عسکریت پسندوں نے ایک مارکیٹ میں دھماکہ کیا۔ اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہو گئے۔ ایک کار پر کیے گئے دھماکے کی وجہ سے بغداد میں محکمہ برقیات کا ایک اہلکار ہلاج ہو گیا جبکہ سڑک کنارے ہونے والے ایک بم دھماکے سے ایک شہری بیجی میں جاں بحق ہوا۔

عسکریت پسندوں نے شہر کے قریب سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا، اس کارروائی میں دو بندوق بردار بھی مارے گئے۔

عسکریت پسندوں نے باقوبہ کے نزدیک لوکل کونسل کے ارکان کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا ۔ یہ حملہ بغداد کے شمال میں کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک محافظ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

واضح رہے 2008 سے عراق بدترین تشدد کا شکار ہے۔ اس وقت سے ملک میں ظالمانہ فرقہ واریت کا سلسلہ چل رہا ہے، جبکہ القاعدہ عراقی سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنا رہی ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں