کیمیائی ہتھیاروں کے مراکز کا معائنہ، بیس انسپکٹرز کی دمشق آمد

سیکیورٹی خطرات کے باعث غیر جانبدار فوج کی مدد لی جا سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی معاہدے سے متعلق 20 معائنہ کار پیر کو شام پہنچ رہے ہیں۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے کم از کم پچاس مختلف جگہوں پر موجود ذخائر میں سے بشار رجیم کے زیر قبضہ اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ہونے کی وجہ سے معائنہ کاروں کا مشن انتہائی خطرناک ثابت ہو گا، جس کا آغاز ہونے والا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق محفوظ معائنے کے لیے شامی حکومت اور باغیوں سے ہٹ کر غیر جانبدار سکیورٹی فورسز کی بھی مدد لی جا سکتی ہے، تاکہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن مکمل اور محفوظ بنایا جا سکے۔

اس سے قبل بشار رجیم یہ دعوی کر چکی ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر باغی جان بوجھ کر معائنہ کاروں کے کام میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں، تاکہ عدم تعاون کا الزام شامی حکومت پر لگایا جا سکے۔ بلاشبہ ایسا ہی الزام باغیوں کی طرف سے بھی سامنے آ سکتا ہے ۔ اس صورت حال میں او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کاروں کے لیے دونوں طرف سے مشکلات کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

اس لیے اس عالمی ادارے سے متعلق معائنہ کاروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں غیر جانبدار فوج کی مدد کی ضرورت ہو گی اور اس کا فیصلہ جلد ممکن ہو سکتا ہے، شام میں اس بیس رکنی ٹیم کے جائے قیام سے لیکر سفر اور کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کے معائنہ تک ہر جگہ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے لیے بھی غیر جانب دار فورس اہم ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں