.

شامی اپوزیشن سربراہ جربا کی بانکی مون سے پہلی ملاقات

جنگی جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کو ممکن بنایا جائے گا، بانکی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے شام میں جاری خانہ جنگی اور بشار رجیم کے مظالم کے حوالے سے اہم ملاقات کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے احمد الجربا کی اب تک ہونے والی یہ پہلی ملاقات تھی ۔

اس موقع پر جربا نے بان کی مون سے کہا جب بڑی طاقتیں اتفاق کر لیں تو شام میں ایک عبوری حکومت قائم ہو جانی چاہیے۔ واضح رہے بان کی مون نے جمعہ کے روز شام کے حوالے سے ماہ نومبر کے وسط میں ایک امن کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ااقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی کے مطابق احمد الجربا نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اس مجوزہ امن کانفرنس میں شامی اپوزیشن کے وفد کی شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ اس مجوزہ امن کانفرنس کو جون 2012 سے جنیوا میں جاری امن مذاکرات کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جربا کی ملاقات کے موقع پر بان کی مون نے شامی اپوزیشن لیڈر کے خیالات اور امن کوششوں کے لیے کمتمنٹ کا خیر مقدم کیا۔ تاہم سیکرٹری جنرل نے جلد سے جلد امن مذاکرات پر زور دیا اور اس امرکو یقینی بنانے کے لیے کہا کہ جنگی جرائم کے مرتکبین کا احتساب ہو سکے۔ واضح رہے بان کی مون 13 ستمبر کو خود کہہ چکے ہیں بشارالاسد نے کئی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔

جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک قرار داد بھی منظور کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ 21 اگست کو الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد بشار رجیم مسلسل عالمی دباو کی زد میں ہے۔