.

مسجد اقصٰی کے آس پاس اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپیں

انتفاضہ الاقصی کی سالگرہ کے موقع پر القدس میں غیر علانیہ کرفیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے غیرعلانیہ کرفیونافذ کر کے فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔

دوسری جانب سیکڑوں فلسطینیوں نے دوسری "تحریک انتفاضہ" کی 13 ویں سالگرہ کے موقع پر مسجد اقصٰی میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد مسجد اقصٰی کے ارد گرد تعینات صہیونی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کو قبلہ اول سے دور رکھنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کی شیلنگ بھی کی ہے، جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیموں کی جانب سے دوسری تحریک انتفاضہ الاقصیٰ کی یاد میں مغربی کنارے اور بیت المقدس میں ریلیوں کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینیوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے مغربی کنارے اور بیت المقدس کو بہت پہلے ہی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے سخت ترین سیکیورٹی انتطامات اور پابندیوں کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصٰی میں 50 سال سے زائد عمر کے گرین کارڈ کے حامل افراد کو قبلہ اول میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی تاہم خواتین اس شرط سے مستثنیٰ تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے غیر علانیہ کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر فلسطینیوں کو مسجد اقصٰی میں جانے سے روکا گیا اور کئی اہم راستوں کو مکمل طورپر سیل کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز فلسطینی شہریوں اور صہیونی پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ مشتعل شہریوں کے حملے میں ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

یاد رہے کہ فلسطین میں 28 ستمبر سنہ 2000ء کو فلسطینی عوام نے اپنے دیرینہ حقوق کے حصول اور مسجد اقصٰی کی آزادی کے لیے "انتفاضہ الاقصیٰ دوم" کا آغاز کیا تھا۔ فلسطینیوں کی بیداری کی اس تحریک کے دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید اور گرفتار کرلیے گئے تھے۔ اسرائیل کی ان ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کے لیے فلسطینی ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلے جس پر اسرائیلی فوج نے انہیں حسب روایت وحشیانہ استعمال کا نشانہ بنایا۔