.

کار حادثے کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی: سربراہ امر بالمعروف

شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز کی جاں بحق نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے معاملات کو دیکھنے والی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف عبدالعزیز آل شیخ نے یقین دلایا ہے کہ نوجوان سعودی شہری 24 سالہ ناصر القطیبی کے کار حادثے میں جاں بحق ہونے کی تحقیقات میں اگر ان کے ماتحت پولیس اہلکار قصور وار نکلے تو انہیں بھی سزا دی جائے گی۔

مرحوم ناصر کا چھوٹا بھائی 22 سالہ سعود جو اسی کار تصادم میں زخمی ہو گیا تھا، ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق وہ ابھی تک کومے کی حالت میں ہے۔ دونوں نوجوان اس وقت شدید حادثے کا شکار ہو گئے تھے جب مبینہ طور پر ان کی گاڑی کا پولیس تعاقب کر رہی تھی۔

امر بامعروف و نہی عن المنکر پولیس کے سربراہ نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کے جنازے میں شرکت کی تو اس موقع پر ان کا کہنا تھا وہ اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے یہاں آئے ہیں۔

واضح رہے اس حادثے میں نوجوان کی ہلاکت پر پورے ملک میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خصوصا اس اطلاع پر لوگوں کو افسوس ہے کہ دو پولیس اہلکار اس حادثے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

متاثرہ خاندان نے اس معاملے میں انصاف کے لیے اپیل کی ہے۔ لواحقین کا موقف ہے کہ ان کے بچے بے گناہ تھے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ناصر کے بھائی کا کہنا ہے کہ گاڑی کے شیشے سیاہ تھے اس لیے اس گاڑی کا پولیس نے پیچھا کیا اور اسی دوران حادثہ پیش آ گیا۔ بھائی کے بقول اس کے دونوں بھائی اس وجہ سے خوف زدہ تھے کہ ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور گاڑی روکے جانے پر ان سے پولیس سختی سے پیش آئے گی۔

پولیس کے موقع سے فرار ہونے والے اہلکاروں کو بعد ازاں گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

سعودی مذہبی پولیس کے سربراہ نے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد سے اظہار تعزیت کیا اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب ایک عینی شاہد محمد الشہابی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا '' نوجوانوں کی کار کو ایک بڑی گاڑی نے جان بوجھ کر پیچھے سے ٹکر ماری تھی۔''

مرحوم ناصر کے بھائی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا خاندان چاہتا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو موت کی سزا دی جائے