.

شام میں امن، اگلے جنیوا مذاکرات میں ایران شریک ہو گا

انسانی بنیادوں پر محفوظ راہداریاں بنانے پر اقوام متحدہ کے نمائندے کا اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے الخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد فی الحال یقینی نہیں ہے۔ اگر دوسرے دور کا انعقاد ممکن ہو گیا تو جنگ زدہ شام کے لیے ایک عبوری حکومت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گا اور ان امن مذاکرات میں ایران کو بھی شریک کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار'' العربیہ ٹی وی'' کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

الخضر ابراہیمی کا یہ بھی کہنا تھا اگرچہ جنیوا مذاکرات کا انعقاد ماہ نومبر کے وسط میں ہونا طے ہو چکا ہے لیکن متعین تاریخ اور وقت پر ابھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ یو این او کے خصوصی نمائندے نے توقع ظاہر کی ہے کہ مذاکرات ہونے کی صورت میں توجہ اس امر پر ہو گی کہ 30 جون 2012 میں جنیوا میں سامنے آنے والے اعلامیے کے نکات کو آگے بڑھایا جائے۔

واضح رہے مذکورہ اعلامیے میں شام کے لیے عبوری حکومتی سیٹ اپ کی حمایت کی گئی ہے۔ مجوزہ عبوری حکومت میں موجودہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے حامیوں کی نمائندگی ہو گی، نیز ملکی کی مسلح افواج کلی طور پر اس عبوری حکومت کے تابع ہوں گی۔

''العربیہ'' نیو یارک کے بیورو چیف طلال الحج کو دیے گئے اس خصوصی انٹرویو میں الخضر ابراہیمی کا کہنا تھا، جنیوا کے اگلے امن مذاکرات پہلے سے اس حوالے سے مختلف ہوں گے کہ ان میں شام کے تنازعے کے دونوں فریقوں کی نمائندگی ہو گی۔ علاوہ ازیں اس مرتبہ ان مذاکرات میں ایران کو بھی بلا ئے جانے کا امکان ہے۔

الخضر ابراہیمی نے اس غیر معمولی دور میں ایران کی شمولیت کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا سعودی عرب، قطر، مصر، کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کو بھی دعوت دی جائے گی۔

دوسری جانب شام کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے بان کی مون کو اتوار کے روز یقین دلایا ہے کہ اس کا وفد ان امن مذاکرات کا حصہ بنے گا، تاہم شامی اپوزیشن نے بشارالاسد کے اتحادی ایران کی امن مذاکرات میں شمولیت کی مخآلفت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے نے زور دیا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پیشگی شرائط کے بغیر ان امن مذاکرات کا حصہ بننا چاہیے۔ الخضر ابراہیمی نے اس موقع پر شام میں انسانی بنیادوں پر راہداریوں کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے یہ تجویز شروع میں فرانس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔

ابراہیمی نے ان مجوزہ راہداریوں کو تحفظ دینے کو اہم قرار دیا اور کہا انسانی بنیادوں پر مدد کو آنے والوں کو تحفظ کون فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے شام آنے والے کیمیائی معانہ کاروں کو تحفظ کے لیے غیر جانبدار فورسز کی امکانی تعیناتی کا ذکر بھی آ چکا ہے۔