.

امریکا، ایران تعلقات میں ڈرامائی بہتری آ سکتی ہے: جان کیری

ایرانی جوہری پروگرام کا تنازعہ صرف چند ماہ میں طے ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اگر ایران نے یہ اطمینان دلا دیا کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے تو یہ تنازعہ اگلے چند ماہ میں طے ہو جائے گا۔

جان کیری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ''جس طرح ایرانی صدر حسن روحانی نے اس تنازعے کے حل کے لیے تین سے چھ ماہ کی مدت کا ذکر کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ اس سے بھی پہلے طے ہو سکتا ہے، تاہم اس کیلیے ضروری ہے کہ ایران بعض شرائط کے پورا کرنے کا اطیمنان دلا دے۔''

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ''ہم اس بارے میں ایک اچھی ڈیل چاہتے ہیں، ایک اچھی ڈیل سے مراد یہ ہے کہ ڈیل ایران کو جوابدہ بنا دے اور یہ یقینی ہو جائے کہ پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا '' اگر ایرانی جوہری پروگرام حقیقتا پرامن مقاصد کا حامل ہوا تو ہمیں اس کو تفصیل سے دیکھنا ہو گا، ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا اسے دیکھ سکے، اس صورتحال میں ایران کے ساتھ امریکی تعلقات میں ڈرامائی اور تیز رفتار تبدیلی آ سکتی ہے۔''

جان کیری کا ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال پر کہنا تھا '' امریکا اس وقت تک ان پابندیوں کو ختم نہیں کرے گا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ ایک تصدیق کے لائق، اچھی طرح جانچا جا سکنے والا اور شفاف طریقہ کار وضع ہو گیا ہے، البتہ ایران کی طرف سے ٹھوس اقدامات کی صورت میں ان پابندیوں کے خاتمے کا سوچا جا سکتا ہے۔''

ایرانی صدر کے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے خیالات کے بارے میں انہوں نے کہا '' صدر اوباما نے خوش دلی سے ان کے مثبت خیالات کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن الفاظ جب تک عمل میں نہیں ڈھلتےعملی پیش رفت نہیں ہو سکتی ہے۔''

جان کیری نے ایران پر زور دیا کہ '' ایران کو بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق تیز رفتار، واضح، اور متاثر کرنے والے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہم یہ بھی اطیمنان چاہتے ہیں کہ"ہم اور ہمارے اتحادی یا خطہ ایرانی پروگرام سے کسی خطرے میں نہ ہو۔''