.

خانہ کعبہ کے تالے کی تبدیلی سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ

"قفل" کی تبدیلی کا مطالبہ بنی شیبہ نے چھ سال پیشتر خود کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الحرمین الشریفین کے نگراں ادارے نے سعودی عرب میں خانہ کعبہ شریف کے قفل کی تبدیلی سے متعلق پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں اور عوامی حلقوں میں ہونے والی چہ میگوئیوں کا ازالہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قفل کعبہ کی تبدیلی کا فیصلہ بنی شیبہ کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الحرمین الشریفین کے نگراں ادارے کی جانب سے جاری ایک مفصل بیان میں بتایا گیا ہے کہ قفل خانہ کعبہ کی تبدیلی کے معاملے میں کلید کعبہ کے مالک بنی شیبہ خاندان [سدانہ] کو نظراندازنہیں کیا گیا بلکہ کعبہ شریف کے سنہری تالے کے لیے تجویز بنی شیبہ قبیلے کی جانب سے چھ سال قبل دی گئی تھی۔ اسی تجویز پرعمل درآمد کرتے ہوئے خانہ کعبہ کا نیا تیارکردہ قفل لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں کچھ دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت نے "سدانہ" کو اعتماد میں لیے یا ان سے مشورہ کیے بغیر خانہ کعبہ کے دورازے کا قفل تبدیل کردیا ہے، جس پر بنی شیعہ خاندان ناراض ہے۔

بیت اللہ کے شایان شان قفل کی تیاری الحرمین انتظامیہ کی جانب سے دس نکات پرمتشمل ایک طویل وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہیں قفل کعبہ کی تبدیلی کی ضرورت کیوں کرپیش آئی تھی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ قفل ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔ اس کےعلاوہ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر ایک سنہری قفل پہلے سے تیار کرلیا گیا تھا۔

نئے سنہری تالے کے ڈیزائن اور اس کی تیاری کے تمام مراحل میں کلید کعبہ کے متولی خاندان بنی شیبہ کو مشاورت میں شریک رکھا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ نئے سنہری تالے کو نصب کیے جانے بعد اس کے کھلنے اور بند ہونے میں بھی دقت کاسامنا کرنا پڑ رہا تھا، جسے شاہ عبدالعزیز سائنس وٹیکنالوجی سٹی کے ماہرین کی مدد سے ٹھیک کرلیا گیا ہے۔ نیز خانہ کعبہ کے دروازے کے لیے ایک ایسا قفل تیاری کیا گیا ہے جو بیت اللہ کے شایان شان ہے۔ اس کی چابیاں اب بھی بنی شیبہ خاندان ہی کے پاس ہیں اور حکومت اس سنت رسول کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔