.

مناسک حج: اسلامی تاریخ کے ماضی و حال کی عظیم الشان عبادت

اسلام نے شرک کی جھاڑیاں صاف کر کے' شجر توحید' کا بیج بویا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام کے گلدستہ عبادت میں ہرعبادت اپنی جگہ عظیم الشان ہے لیکن حج اور مناسک حج کی شان ہی نرالی ہے۔ یہ چودہ صدی پر محیط ماضی و حال کی اسلامی تاریخ کی ایک عظیم الشان عبادت ہے جس میں کرہ ارض کے کونے کونے سے آنے والے فرزندان توحید رنگ ونسل، زبان، علاقے اور تہذیب وثقافت حتی کہ لباس اور طور اطوارسے ماورا ہوکر وحدت ملی کا ضرب المثل مظاہرہ کرتے ہیں کہ جس کی نظیرپیش نہیں کی جاسکتی۔

صرف یہی نہیں بلکہ حج جیسی مقدس عبادت اور اس کے مناسک کو آسان تر بنانے کے لیے جہاں علماء و فقہاء نے اجتہاد کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، وہیں مسلمان خلفاء بھی اس عبادت کوسہل بنانے کے لیے اپنے تئیں ہرممکن کوشش کرتے چلے گئے، یہاں تک کہ موجودہ سعودی حکومت نے تو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا انداز ہی بدل دیا اور مناسک حج کی ادائیگی کے لیے وہ سہولیات فراہم کردیں جن کا عالم خیال میں تصور بھی ناممکن ہے۔

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جوہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ حج ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ جلیل القدر پیغمبرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے ہوتا ہے۔ آج مسلمان جو مناسک حج ادا کرتے ہیں۔ یہ دراصل حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے سکھائے ہوئے ہیں۔

دونوں پیغمبروں نے خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کہ تھی کہ "اے ہمارے پروردگار ہمیں اس گھرمیں عبادت [مناسک] کے طریقے سکھا"۔جزیرہ عرب میں رہنے والے تقریبا تمام قبائل اپنے اپنے مخصوص انداز میں خانہ کعبہ میں عبادت اور حج کرتے تھے لیکن بنی حنیفیہ نامی قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی بیشتر تعلیمات حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فرمودات کے مطابق تھیں اور یہ لوگ ظہور اسلام سے قبل شرک سے پاک مناسک حج بھی ادا کرتے تھے۔

مناسک حج نو ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے آٓخری ایام میں شروع ہوتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں ایک عازم حج رخت سفرباندھنے کے ساتھ ہی ذہنی طورپر مناسک حج کے لیے تیار ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں داخلے سے قبل ہی حجاج کرام احرام باندھ لیتے ہیں۔ نو ذی الحج کو پہلے مرحلے پرطواف قدوم کرتے ہیں۔ اس کے بعد یوم ترویہ کو وادی منیٰ میں قیام کے بعد حج کے ایک بنیادی رکن 'وقوف عرفہ' کرتے ہیں۔ اگر 'وقوف عرفہ' کا فریضہ ادا نہ ہوت حج نہیں ہوتا۔ وہاں سے حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے جمرہ عقبۃ الکبریٰ جاتے ہیں۔ وہاں سے واپسی پر طواف افاضہ کرتے ہیں اور ایام تشریق کے لیے منٰی کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں۔

آخر میں ایک مرتبہ پھر طواف وداع کرتے ہیں اور قربانی کے بعد حج کے مناسک سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ مناسک حج کے یہ تمام مراحل تعلق باللہ کا ایک بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس دوران فزندان توحید اپنے گناہوں کی معافی کے لیے اپنے پروردگار کے حضور باربار مناجات کرتے اوراپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے رو رو کردعائیں مانگتے ہیں۔اسلام سے قبل دور جاہلیت میں عربوں نے حج کے نام پرفحاشی اور بے حیائی کو عام کررکھا تھا۔

موسم حج کے موقع پر عورتیں مرد عریاں ہوکر خانہ خدا میں داخل ہوتے۔ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے، ان پر چڑھاوے چڑھاتے۔ یہ لوگ ان تمام مناسک کو فراموش کرچکے تھے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حج کے حوالے سے بتائے یا خود کیے تھے۔ظہور اسلام کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ھجری کو حج کیا اور دور جاہلیت کی وہ تمام جاہلی رسوم و رواج کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا جنہوں نے ایک عبادت کوکھیل تماشا بنا رکھا تھا۔ حج جیسی مقدس عبادت میں شرک وبت پرستی کی وہ جھاڑیاں صاف کردی گئیں جو صدیوں سے عربوں کا خاصہ اورپہنچا بن چکی تھیں۔ ان کی جگہ خالص توحید کے شجر طیبہ کا بیج بویا جو تا قیات سرسبزو شاداب رہے گا۔