.

دبئی:نابیناٶں سے اظہار یکجہتی کے لئے اندھیرے میں ڈنر کا اہتمام

ہوٹل کے ویٹروں کو "حواس گائیڈز" کہا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بینائی جیسی عظیم نعمت کی قدر وقیمت کا اندازہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے جو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس عظیم نعمت کی اہمیت جاننے اور اس سے محروم افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے متحدہ عرب امارات کے عالمی تجارتی وثقافتی مرکز دبئی کےایک ہوٹل کی جانب سے 'گھپ اندھیرے' میں ڈنر کا ایک منفرد تجربہ کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دبئی کے "نورا" ریستوران میں شام کے وقت آنے والے گاہکوں کو بتایا گیا کہ انتظامیہ اندھیرے میں کھانا کھلانے کا ایک منفرد تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس تجربے کا مقصد بصارت سے محروم افراد سے اظہار یکجہتی کے ساتھ اس بات کا اندازہ لگانا ہے کہ "حس بصری" کے بغیر اس کی جگہ دیگر حواس سے کام لینا کتنا مشکل ہے۔ تجربے کےآغاز میں تمام صارفین میں ایک نامعلوم مشروب پیش کیا گیا تاکہ یہ جانچا جائے کہ اندھیرے میں وہ کسی خلل کے بغیرمشروب کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟۔

اس منفرد ایونٹ کے حوالے سے دبئی "سیلز اینڈ مارکیٹنگ" کے ڈائریکٹر راکی فیلپ نے کہا کہ "تاریکی میں کھانا کھانے کا یہ تجربہ عالم عرب کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ اس کا مقصد بصارت سے محروم افراد کی مشکلات کا ادراک کرنا تھا کیونکہ پوری دنیا میں 161 ملین افراد بصارت کی نعمت سے محروم ہیں"۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر فیلپ کا کہنا تھا کہ تاریکی میں کھانا پیش کرنے میں ریستوران کی انتظامیہ نے بعض احتیاطی تدابیر بھی کی تھیں۔ مثلا کھانے کے لیے پیش کیے گئے تمام آئٹمز شوربہ وغیرہ گرم نہیں تھے۔ صارفین کے تحفظ کے لیے میزوں پر چھریاں کانٹے بھی نہیں رکھے گئے۔ ہوٹل کے طرف سے شام کو عشاء کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاکہ باہر ہرطرح کی روشنی ختم ہو جائے اوراندر موجود تمام چراغ گل کردیے گئے تھے۔ مسٹر فیلپ کے بہ قول"یہ ایک مشکل مہم تھی کیونکہ اس میں اپنی انگلیاں بھی دکھائی نہیں دیتیں تھیں"۔

واضح رہے کہ "نورا" ریستوران کے ویٹروں کو"دلیل الحواس"[حواس گائیڈز] کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نام دینے کی وجہ یہ ہےکہ یہی ویٹر رات گئے آنے والے گاہکوں کوخصوصی ٹارچ کی روشنی میں ان کی اقامت گاہ اور کھانے پینے میں مدد کرتے ہیں"۔ ہوٹل کے ڈپٹی ڈائریکٹر 'کیمرون پیٹرللے' نے بتایاکہ گذشتہ اپریل سے انہوں نے رات کی تاریکی میں روشنی کی سہولت فراہم کرنے والی خصوصی عینکیں اپنے گاہکوں کو فراہم کرنا شروع کی تھیں۔ اس نوعیت کی عینکیں عام طور پر جنگی محاذوں پر فوجیوں کے استعمال میں ہوتی ہیں۔ ہم ایسا کرکے اپنے گاہکوں کا اعتماد بڑھانا چاہتے ہیں۔

ہوٹل میں رات کی تاریکی میں کھانا تناول کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ جب میں ہوٹل پہنچا تومجھے بتایا گیا کہ آج آپ مکمل اندھیرے میں کھانا کھانے کی زحمت کریں گے۔ میں سمجھ گیا۔ جس کے بعد میں اپنے بصری حواس کے سوا باقی حواس اربعہ کی قوت کو مجتمع کرنے لگا اور یہ سوچنے لگا کہ مجھے اندھیرے میں کس طرح اپنے کھانے تک پہنچنا ہے۔

ایک دوسرے گاہک نے بتایا کہ اندھیرےمیں کھانا کھانے کے بعد مجھے بصارت کی عظیم نعمت کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوا۔ ہم میں سے ہرایک کو یہ غور کرنا چاہیے کہ بصارت سے محروم لوگ کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں"۔ خیال رہے کہ اس نوعیت کے تجربات اس سے قبل لندن اور پیرس میں بھی ہو چکے ہیں لیکن عرب ممالک میں یہ پہلا تجربہ ہے۔