.

''دہشت گردوں کی پشت پناہی سے سیاسی حل برآمد نہیں ہوگا"

شام کو اس وقت 9/11 جیسی صورت حال کا سامنا ہے: ولید المعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی ریاستوں کی جانب سے اب دہشت گردوں کی حمایت سے ان کے ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔

انھوں نے یہ بات سوموار کی رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں سالانہ اجلاس میں تقریرکرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اعلان کیا کہ جب تک دہشت گردوں کی مالی وعسکری امداد جاری رہتی ہے،اس وقت تک سیاسی حل کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ولیدالمعلم کے الفاظ میں:''پہلے کچھ ممالک تھے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے تھے لیکن اب وہ شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں''۔انھوں نے شام میں جاری مسلح لڑائی کو سرے سے خانہ جنگی تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا اور کہا کہ ''شام میں کوئی خانہ جنگی نہیں ہورہی ہے اور صرف آزادانہ انتخابات کے ذریعے ہی اس بات کا پتا چلایا جاسکتا ہے کہ شامی عوام کیا چاہتے ہیں''۔

انھوں نے بعض ممالک کی جانب سے شام میں حزب اختلاف کے دھڑوں کی حمایت کو ایک مذاق قراردیا اور کہا کہ اعتدال پسند اور انتہا پسند جنگجوؤں کے درمیان تفریق بالوں کو الگ تھلگ کرنے کے عمل کی طرح ہے۔

شامی وزیرخارجہ نے کہا:''میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ جو لوگ بچوں کو پکڑتے ہیں،ان کے اعضاء کو بیرون ملک فروخت کردیتے ہیں یا بچوں کو بھرتی کرتے اورانھیں عسکری تربیت دیتے ہیں،کیا آپ ان کی حمایت کرسکتے ہیں؟یہ ''دہشت گرد''انسانی اعضاء کھاتے ہیں اور لوگوں کے جسمانی اعضاء کو زندہ حالت ہی میں الگ تھلگ کردیتے ہیں اور پھر ان کو ان کے خاندانوں کو بھیج دیتے ہیں''۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی چار ماہ قبل ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی۔اس میں ایک جنگجو ایک فوجی کا دل کھا رہا تھا۔وزیرخارجہ نے اسی ویڈیو کا تذکرہ کرکے جنرل اسمبلی میں دوسرے ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

انھوں نے شام میں جاری صورت حال کو امریکا میں9/11 کے بعد کی صورت حال کے مشابہ قراردیا اور کہا کہ ''نیویارک کے لوگ دہشت گردی کی تباہ کاریوں کو ملاحظہ کرچکے ہیں،وہ دہشت گردی کی آگ میں جلائے گئے اورخونریزی کے عمل سے گزرے ،اب بالکل اسی طرح ہم اس سب کچھ کا شام میں سامنا کررہے ہیں''۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت شام میں تراسی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو لڑرہے ہیں۔انھوں نے تقریر میں مغربی ممالک ۔۔۔۔۔۔۔امریکا،برطانیہ اور فرانس ۔۔۔۔۔پر الزام عاید کیا کہ ''وہ دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے حقیقی ذمے داروں کے نام سامنے نہیں لارہے ہیں''۔انھوں نے بتایا کہ ''شامی دہشت گردوں کو کیمیائی ہتھیار مہیا کیے جارہے ہیں''لیکن انھوں نے اس ضمن میں کسی خاص ملک کا نام لیا۔

شامی ارباب اقتدار سرکاری فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کو دہشت گرد قراردے رہے ہیں۔شامی حکومت نے باغیوں پر الغوطہ میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں چودہ سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔باغیوں نے الٹا شامی حکومت پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ مغربی ممالک نے بھی اس کی تائید کی تھی۔