.

عراق: صرف دو دنوں میں 23 افراد کو پھانسی دی گئی

پھانسی چڑھنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق القاعدہ سے تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں صرف دو دنوں میں 23 افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ زیادہ تر پھانسی پانے والوں کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا ہے، جن پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

تفصیلات کے مطابق عراقی حکومت نے ماہ ستمبر کے دوران صرف دو دنوں میں بائیس اور چھبیس ستمبر کو مجموعی طور پر دو درجن سے زائد شہریوں کیلیے سزائے موت پر عمل درآمد کیا ہے۔ امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ میں عام طور پر پھانسی دینے کے اس روائتی طریقے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حسیبہ حج شاروعی کا کہنا تھا '' عراق نے ان اعتراضات کا مقابلہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''کہ پھانسی کی سزائیں بظاہر غیر منصفانہ عدالتی کارروائی اور عالمی معیارات کے منافی طریقے اختیار کر کے دی جاتی ہیں۔''

اقوام متحدہ کے انسانی کے شعبے کے سربراہ ناوی پیلے نے ابھی حال میں کہا تھا کہ '' عراق کا فوجداری معاملات سے متعلق عدالتی نظام بروئے کار نہیں ہے۔'' ناوی پیلے کا یہ بھی کہنا تھا کہ '' بہت سارے سزا پانے والوں سے اعتراف جرم کرانے کے لیے جبر اور تشدد کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔