.

"اسرائیل، تنہاء بھی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے گا"

نیتن یاہو کی یو این خطاب سے پہلے امریکی صدر سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ان کی حکومت کسی بھی حد تک جائے گی۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہی۔

بینجمن نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایرانی کوششوں کے راستے میں اسرائیل تنہا بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’لیکن تنہا کھڑے ہونے کے باوجود اسرائیل پر یہ بات واضح ہو گی کہ ہم بہت سے دوسروں کا تحفظ بھی کر رہے ہوں گے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی 1994ء میں بیونس آئرس کے ایک یہودی مرکز اور 1996ء میں امریکیوں پر سعودی عرب میں ہونے والے ایک حملے سے ضرور آگاہ ہوں گے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس وقت روحانی قومی سلامتی کے مشیر تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر باراک اوباما اور حسن روحانی نے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ یہ 34 سال میں دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ’جوہری ہتھیاروں سے لیس‘ ایران اسرائیل کی تباہی چاہتا ہے اور اس سے اسرائیل کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پابندیوں کی صورت میں ایران پر دباؤ برقرار رکھے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیر خدا داد سیفی نے جنرل اسمبلی سےخطاب میں کہا: ’’اسرائیل کے برعکس ایران نے نہ کبھی کسی ملک پر حملہ کیا ہے اور نہ کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ایسا نہیں کہ ایران اس کی اہلیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی وجہ طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے کی اس کی اصولی پالیسی ہے۔‘‘ سیفی کا کہنا تھا: ’’ایران پر حملے کی منصوبہ بندی تو دُور کی بات ، اچھا ہو گا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایسا سوچیں بھی مت۔‘‘

اُدھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے ارادوں کے بارے میں نیتن یاہو کی تشکیک ’بالکل قابلِ جواز‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی ماضی قریب تک ایران کی قیادت ’اسرائیل کو نیست و نابود‘ کرنے کی باتیں کر رہی تھی۔ کارنی نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دُور رکھنے کے لیے اسرائیل کے مقصد کے ساتھ ہے۔

قبل ازیں پیر 30 ستمبر کو امریکی صدر باراک اوباما نے نیتن یاہو سے ملاقات میں اسرائیل کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل کھلی آنکھوں سے شروع کریں گے۔