سعودی عرب: وزارتِ صحت کے 22 ہزار اہلکار حجاج کی خدمت پر مامور

"کرونا" وائرس سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب نے حج کے موقع پر حجاج کرام کو بر وقت ضروی طبی امداد کی فراہمی بالخصوص"کرونا" وائرس" کے انسداد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ سعودی وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نے حجاج کی خدمت پر بائیس ہزار پانچ سو اہلکاروں کو متعین کیا ہے جو چوبیس گھنٹے کی بنیاد پرحجاج کی طبی ضرورتوں کا خیال رکھیں گے۔

ڈاکٹرعبداللہ نے یہ بات "العربیہ" ٹی وی سے خصوصی گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حجاج و معتمرین کی خدمت کے لیے وزارت صحت نے نئے اسلامی سال کے آغاز ہی سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔ گذشتہ برس موسم حج میں وزارت صحت کی جانب سے تمام تر کوششوں کے باوجود کچھ خامیاں سامنے آئی تھیں لیکن امسال ان کا تدارک کیا جائے گا۔ وزیرصحت نے بتایا کہ حجاج کرام کے ملک میں داخلے کے لیے 16بری اور بحری داخلی راستے متعین کیے گئے ہیں۔

داخلی مقامات پر بھی وزارت صحت کے اہلکار متعین ہیں۔ ان کے علاوہ الحرمین الشریفین اور تمام مشاعر مقدسہ میں کم و بیش بائیس ہزار رضاکار حجاج کرام کی طبی ضرورتوں کا خیال رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ وزارت صحت نے حجاج کرام کی خدمت جتنے بھی انتظامات کیے ہیں، وہ اعلیٰ معیار کے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی طبی تنظیموں کے تعاون و رہ نمائی سے انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف خطوں سے آنے والے حجاج کرام میں بعض انوکھےامراض کا شکارافراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہرقسم کے امراض کی فوری طبی امداد کے لیے ادویہ کا انتظام کیا جائے۔ ہم نے کورونا وائرس سمیت کئی اہم نوعیت کے دیگرامراض کی ویکسین کا ایک بڑا ذخیرجمع کر رکھا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرصحت کا کہنا تھا کہ امسال حجاج کرام کی طبی ضرورتوں کے پیش نظر کم سے کم پچیس اسپتالوں کو صرف حجاج کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ ڈیڑھ سو کے قریب ڈسپنسریاں اور چھوٹے مراکز صحت بھی حجاج کی خدمت پر مامور رہیں گے۔ ان میں میدان عرفات میں 4، منیٰ میں بھی چار، مکہ مکرمہ میں 7 اور مدینہ منورہ میں 9 جبکہ 141 چھوٹے مراکز صحت بھی ان کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں۔

عرفات میں ہنگامی ضروریات کے لیے 46 مراکز صحت، مزدلفہ میں چھ، منیٰ میں 28 اور بقیہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قائم کیے گئے ہیں۔ تمام اسپتالوں میں مریضوں کے لیے 05 ہزار250 بیڈ تیار حالت میں موجود ہیں۔ ان میں 500 بیڈ انتہائی نگہداشت وارڈز میں ہیں جبکہ 550 ایمرجنسی وارڈز میں رکھے گئے ہیں۔

"کورونا" وائرس سے نمٹنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ حکومت نے اس وائرس کی ویکسین کی بڑی مقدار مختلف اسپتالوں اور مراکز صحت میں پہنچا دی ہے۔ وائرس کے مزید پھیلنے بالخصوص حجاج کرام کے متاثر ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو اسپتالوں میں الگ کمروں اور وارڈز میں رکھا جائے گا اور ان کی آمد و رفت کے راستے بھی الگ رکھے جائیں گے تاکہ وائرس دوسرے مریضوں تک نہ پہنچ پائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں