شامی خاتون اول کے کئی روپ، مسکراہٹیں، فیشن پرستی اور غمزدگی

ایوان صدر کی فیس بک آئی ڈی نے اسماء الاسد کے سارے رنگ نمایاں کر دِیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر مسکراہٹیں بکھیرنے اور انسٹاگرام پر اپنی فیشن پرستی پر مبنی تصاویر دکھانے کے بعد شامی خاتون اول اسماء الاسد شام میں جاری اڑھائی سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد اب سادگی دکھانے میں بھی پیچھے نہیں رہی ہیں۔

شام میں "صحرا میں گلاب" کے نام سے جانی جانے والی اسماء الاسد کی سر گرمیاں ان دنوں شامی بحران پر نظر رکھنے والے مبصرین کی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں، جو کہ ان کی مسکراہٹوں پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

منگل کے روز شامی صدر کے سرکاری فیس بک آئی ڈی پر جاری کی جانے والی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسماء الاسد اس خونریزی میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے تاکہ ان سے ان کے نقصانات پر اظہار افسوس کیا جا سکے۔

ان تصاویر میں شامی خاتون اول سیاہ لباس میں ملبوس دکھائی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں اسماء الاسد کو ایک مغموم سے چہرے والے بچے کا بازو کھڑی ہے۔ تصویر کے کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ،"خاتون اول اسماء الاسد نے ابھی تک 4000 خاندانوں [جن کے پیارے اب اس دنیا میں نہیں رہے] سے ملاقات کر کے تعزیت کی ہے۔"

ایک اور تصویر میں اسماء الاسد کو جنگ میں ہلاک ہونے والے عماد الدین صلاح العبید کی اہلیہ سے گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جبکہ ایک اور تصویر میں خاتون اول کو ایک ہلاک شدہ شامی کے والدین کے ساتھ کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ملاقاتیں جن لوگوں سے تعزیت کی ہے ان کے پیاروں کی ہلاکت کی غیر جنبدار ذرائع سے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ سیاہ پوشی پر مبنی یہ تصویریں ان مسکراتی اور فیشن پرستی پر مبنی تصویروں کے بعد فیس بک آئی ڈی کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے والی تصویروں پر عوامی سطح پر ناراضی اور تنقید کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسماء الاسد کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ یہ نئی تصاویر خاتون اول کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ شفقت کے اظہار کی تازہ ترین کوشش ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایک اہم مبصر ڈاکٹر ھالا دیاب نے "العربیہ" کو بتایا کہ،"اسماء الاسد ہمیشہ اچھے کپڑوں میں نظر آنا چاہتی تھی اور اپنے آپ کو توجہ کا مرکز بنائے رکھنا چاہتی تھی، شامی عوام سے دور۔"

2011ء میں شام میں انقلاب کی کوششوں کی شروعات سے متعدد سال قبل دیاب نے شامی نوجوانوں پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے منصوبے پر اسماء الاسد کے ساتھ بطور پروڈیوسر کام کیا تھا۔ دیاب نے بتایا کہ،"اس وقت بھی مجھے بتایا گیا تھا کہ میں اسماء کے وہ سین کاٹ دوں جن میں وہ زیادہ جذبات کا اظہار کر رہی ہوں۔ ان کی شخصیت کو شامی پروٹوکول کے حصار میں رکھا جا رہا تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں