شام:کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کو محفوظ بنانے کے کام کا آغاز

کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی ماہرین اور شامی حکام کی مشترکہ کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کو محفوظً بنانے کے لیے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے۔

اقوام متحدہ اور تنظیم برائے امتناع کیمیاوی ہتھیار نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں اطلاع دی ہے کہ ''عالمی ٹیم نے شامی حکام سے مل کر ان جگہوں کو محفوظ بنانے کا کام شروع کردیا ہے، جہاں وہ بعد میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے کام کرے گی''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اس کے علاوہ ٹیم کے فوری تفویض کار میں سے ایک،شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار کی تنصیبات کو ناکارہ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے''۔

شامی حکومت نے اب تک روس اور امریکا کے درمیان جنیوا میں 14 ستمبر کو کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے طے پائے سمجھوتے کی پاسداری کی ہے۔اس سمجھوتے کے تحت آیندہ سال کے وسط تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کیا جائے گا اور اس وقت تک اقوام متحدہ کا مشن اپنا کام جاری رکھے گا۔

اسی سمجھوتے کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی گذشتہ ہفتے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی پر زوردیا گیا ہے اور دوسری صورت میں شامی رجیم کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کو شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تفصیل پر مبنی دستاویزات موصول ہوگئی ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے پاس ایک ہزار ٹن سے زیادہ سیرن اور مسٹرڈ گیس اور دوسرے ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور انھیں پینتالیس جگہوں پر رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں