یمن: فوجی اڈہ القاعدہ سے خالی کرا لیا گیا: حکومتی عہدیدار

القاعدہ نے پیر کے روز فوجیوں کو یرغمال بنا کر قبضہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی فوج نے کچھ دیر کے لیے القاعدہ کے کنٹرول میں جانے والا فوجی اڈے کو القاعدہ سے چھڑوا کر دوبارہ سے اس پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ اس امر کا اظہار ایک اہم حکومتی عہدیدار نے کیا ہے۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق یہ سرکاری قبضہ تین دن کی لڑائی کے بعد بحال کیا جا سکا ہے۔

سرکاری طور پر سامنے لائی گئی معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ نے اس اڈے پر قبضے کے لیے جن فوجیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا انہیں زندہ چھڑوایا جا سکا ہے یا نہیں۔

فوج کے ایک اعلی عہدے دار میجر جنرل محسن ناصر نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تمام عسکریت پسندوں کو آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

یرغمال بنائے گئے فوجیوں کے بارے میں میجر جنرل محسن ناصر نے امید ظاہر کہ انہیں بچا لیا گیا ہو گا، تاہم اس بارے میں انہوں نے کوئی واضح بات نہیں کہی ہے۔ نہ ہی انہوں نے یرغمال بنائے گئے فوجیوں کی تعداد یا انہیں چھڑوائے جانے کی تفصیل بتائی ہے۔

اس سے پہلے القاعدہ کے مبینہ حملہ آوروں نے سنائیپرز کی مدد سے سکیورٹی اہکاروں کو فوجی اڈے سے دور جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق کم از کم دس فوجی اہلکار پیر کے روز سے بدھ کی رات تک جارہنے والی اس خوفناک جھڑپ کے دوران مارے گئے ہیں۔ القاعدہ کے جنگجووں سے فوجی اڈہ واپس اپنے قبضے میں لینے کے بعد یمنی فوج کے تازہ دم دستوں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں