اسرائیل 2019-20ء میں سلامتی کونسل کی رکنیت کا امیدوار ہوگا

صہیونی ریاست کے لیے جنرل اسمبلی میں نشست جیتنا آسان نہیں ہوگا:سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے 2019-20ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشست کے لیے امیدوار ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کے لیے سلامتی کونسل کا رکن بننا آسان نہیں ہوگا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ران پروسر کا کہنا ہے کہ ''یہ وقت بتائے گا،ہم سلامتی کونسل کی نشست جیت لیں گے''۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی دس غیر مستقل نشستوں کے لیے پانچ علاقائی گروپوں سے دو،دو ممالک کو نامزد کیا جاتا ہے اور ان کا انتخاب ایک سو ترانوے رکن ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دوتہائی اکثریت سے کرتی ہے۔

مسٹر پراسر نے برطانویِ خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مغربی یورپ اور دوسرے گروپ کے لیے جرمنی اور بیلجئیم کے مقابلے میں امیدوار ہوگا۔اسرائیل کو ٹیکنیکل طور پرمشرق وسطیٰ کی دوسری ریاستوں کے ساتھ ایشیا،بحرالکاہل گروپ سے امیدوار ہونا چاہیے لیکن اس گروپ میں مسلم ممالک کی اکثریت ہے اور وہ اسرائیل کی مخالفت کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کو ؁ 2000ء میں مغربی یورپ اور دوسرے گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔امریکا بھی اسی گروپ میں شامل ہے۔2004ء میں اس کی اس گروپ میں رکنیت کی مستقل طور پر تجدید کردی گئی تھی۔

اسرائیل ماضی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا نائب صدر رہ چکا ہے لیکن وہ کبھی سلامتی کونسل کا رکن منتخب نہیں ہوا ہے۔اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کے لیے جنرل اسمبلی سے سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونا آسان نہیں ہوگا کیونکہ غیر وابستہ تحریک کے 120 میں سے بیشتر ممالک اسرائیل کے سخت خلاف ہیں یا اس کے بارے میں سرد مہری کا رویہ رکھتے ہیں۔

جنرل اسمبلی میں جب کبھی اسرائیل اور فلسطینی تنازعے کے ضمن میں رائے شماری ہوئی ہے تو اسرائیلیوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ماضی میں جنرل اسمبلی میں کثرت رائے سے فلسطینیوں کے حق میں قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں۔

یادرہے کہ جنرل اسمبلی نے نومبر 2012ء میں اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطینی ریاست کا درجہ مبصر سے بڑھا کر غیر رکن ریاست کردیا تھا۔فلسطینی ریاست کی درخواست کے حق میں 138 ووٹ آئے تھے ،41 ممالک رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہے تھے اور صرف نو نے اس کی مخالفت کی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل دس ارکان کا دو سال کے لیے باری باری انتخاب کیا جاتا ہے لیکن ہر سال پانچ ممالک رکن منتخب کیے جاتے ہیں۔سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا ،برطانیہ ،روس ،فرانس اور چین ہیں اور انھیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔آیندہ سال کے لیے جنرل اسمبلی پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب 17 اکتوبر کو کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں