فلسطینی خاندان مغصوبہ اراضی اسرائیل سے واگذار کرانے میں کامیاب

آٹھ سال تک صہیونی عدالتوں کے چکر رنگ لے آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے تعلق رکھنے والے 55 فلسطینی خاندان طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد بالآخر اپنی مغصوبہ اراضی اسرائیل سے واپس لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عدالت نے فلسطینیوں کی اراضی سے متعلق کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ فلسطینیوں کے حق میں کیا، جس کے بعد "حومش" یہودی کالونی کے قریب "کلیبات" کے مقام پر پچپن فلسطینی خاندان اپنی اراضی کے مالک قرار دیے گئے۔ فلسطینیوں کو ان کی اراضی واپس دلانے میں اسرائیل میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم "قانون موجود ہے" نے بھرپور معاونت کی۔ تنظیم کے مندوبین اور وکلاء فلسطینی متاثرین کے ساتھ صہیونی عدالتوں میں پیش ہوتے اورفلسطینیوں کے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی عدالت نے آٹھ سال قبل بھی ایک فیصلے میں الکلیبات میں اسرائیل کے تعمیر کردہ مکانات کو متنازعہ قرار دے کر انہیں خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے حکم پر وہاں سے یہودی کالونی ختم کردی گئی تھی مگر انتہا پسند یہودیوں کی اشتعال انگیز آمد و رفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حومش کالونی کو سنہ 2005ء میں سابق وزیر اعظم ارئیل شیرون نے خالی کرانے کے احکامات دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں