امریکی حکومت ناقابل بھروسہ، متکبر اور وعدہ خلاف ہے: خامنہ ای

ایرانی رہبر کے روحانی کی بعض سفارتی کوششوں پر تحفظات سامنے آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے روحانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی بعض سفارتی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم امریکیوں کے حوالے سے خوش فہم نہیں ہیں، اور ان پر اعتماد نہیں رکھتے ہیں۔'' آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق'' امریکی حکومت قابل بھروسہ نہیں بلکہ متکبر، نامعقولیت کا شکار اور وعدہ خلاف ہے۔''

ایران کے روحانی پیشوا نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک تازہ خطاب کے دوران کیا ہے۔ جسے ایران کے خبر رساں ادارے کے توسط سے ایک عالمی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے۔

آیت اللہ خا منہ ای کی طرف سے نئے ایرانی صدر کے اقوام متحدہ کے پہلے دورے کے کئی روز بعد اپنے باقاعدہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مجموعی طورپر صدر روحانی کی سفارتی کوششوں پر اطیمنان ظاہر کیا ہے، تاہم بعض پہلووں پر تحفظات ظاہر کیے اور امریکا کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

واضح رہے ایرانی صدر کی نیو یارک میں موجودگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان تقریبا 34 سال بعد پہلی مرتبہ اعلی ترین سطح پر فونک رابطہ ہوا تھا۔ جبکہ امریکا نے صدر روحانی کی جانب سے خوشگوار باتوں کو عملی حوالے سے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی دورے کے موقع پر ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر جنیوا میں ایران اور دنیا کے چھ اہم ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ایرانی رہبر نے اپنے خطاب میں کہا '' ہم حکومت کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ نیو یارک میں جو کچھ ہوا اس میں سب اچھا نہیں ہے۔ کیونکہ ہم امریکی حکومت کے بارے میں خوش فہم نہیں۔''

آیت اللہ خامنہ ای نے اس موقع پر امریکا کے اتحادی اسرائیل پر بھی تنقید کی اور کہا ''امریکی حکومت صیہونیوں کے عالمی نیٹ ورک میں جکڑی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی قبضے کیخلاف امریکی حکومت دبی سی رہتی ہے۔''

انہوں نے ایران اور امریکا کے صدور کی فون پر ہونے والی بات چیت کے فوری بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی امریکا روانگی اور اوباما سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا'' اس ملاقات کے بعد ہی اوباما نے کہا کہ ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی آپشن ابھی واپس نہیں لی ہے۔''

ایرانی رہبر نے اس حوالے کہا اگر ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا '' ہم ایرانی قوم کے دشمنوں کی طرف سے گاہے گاہے قابل نفرت خیالات سنتے ہیں اگر کسی قسمت کے مارے نے کوئی حرکت کی تو ہمارا جواب سخت ہو گا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں