تیونس: سیاسی بحران کے خاتمے کیلیے مذاکرات میں مشکلات

حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات، اپوزیشن کی مزید شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کی حکمران اسلامی جماعت النہضہ نے ملک میں جاری احتجاج اور اپوزیشن کی سیکولر جماعتوں کے مطالبات کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان مذاکرات کا عندیہ چند روز قبل دیا گیا تھا۔

تیونس میں جاری سیاسی بحران کو طے کرنے کے حوالے سے شروع کیے گئے مذاکرات کا مقصد عبوری حکومت کے لیے راہ ہموار کرنا ہے تاکہ بحرانی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔ واضح رہے تیونس میں احتجاجی مظاہرے ایک سال کے دوران مختلف اوقات میں اپوزیشن کے دو اہم رہنماوں کے قتل کے بعد شروع ہوئے تھے۔

ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات میں حکمران جماعت النہضہ اور اپوزیشن جماعتوں نے تیونس کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بنیادی امور پر ابتدائی بات چیت شروع کرنا تھی، تاکہ ایک روڈ میپ کی تیاری ہو سکے، تاہم اپوزیشن جماعت نے اعتدال پسند النہضہ پر الزام عائد کیا کہ النہضہ نے ثالث کی طرف سے تیار کردہ روڈ میپ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس بارے میں اپوزیشن رہنما مونگی راہوئی کا کہنا تھا '' یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ النہضہ نے محمد براہیمی کے جولائی میں ہونے والے قتل سے پیدا شدہ بحران کے خاتمے کے لیے دستخط کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس لیے ہم نے ابھی تک مزاکرات شروع نہیں کیے ہیں ، ہو سکتا ہے طے شدہ مذاکرات ابھی تاخیر کا شکار رہیں۔''

دوسری جانب النہضہ کے اتحادی جماعت کے رہنما مولڈی ریاہی نےاپوزیشن پر الزام لگایا کہ اپوزیشن نے آخری مذاکرات شروع ہونے سے فوری پہلے شرائط عائد کر دیں، ان کا کہنا تھا '' اصل مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔''

اس سے قبل حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کرانے والے لیگ آف ہیومن رائٹس کے سربراہ عبدالستار بن موسی کا کہنا تھا'' روڈ میپ پر دستخطوں کے لیے تقریب کی تیاری ہے۔'' انہوں نے مزید کہا'' النہضہ کو ضرور استعفا دینے کا وعدہ کرنا ہو گا۔''

واضح رہے رواں ہفتے کے آغاز میں حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے لیے ابتدائی خاکے پر متفق ہو گئی تھیں۔ اس اتفاق رائے میں مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کردار ادا کیا تھا۔

حکمران جماعت پر الزام ہے کہ اس نے ملک میں معاشی صورتحال کو اپنی بد انتظامی کی وجہ سے خراب کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں محمد براہیمی کے قتل کے بعد مسلسل احتجاج کر کے ملک میں بحرانی صورتحال کا اشارہ دے رہی ہیں۔

ملک کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے حکومت کی آمادگی کے بعد اپوزیشن کی شرائط مزید کڑی ہونے کا امکان ہے جس سے مذاکرات موخر بھی ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں