.

اسدر جیم کا شام میں تدفین کی فیس میں غیر معمولی اضافے پرغور

پٹرول کی فی لیٹر قیمت 100 لیرہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے ساتھ لڑائی یا طبعی موت مرنے والے افراد کی آخری رسومات کی ادائیگی سے متعلق فیس میں غیر معمولی اضافے پرغورشروع کیا ہے۔

صدر بشارالاسد کی حکومت کے مقرب ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ میتوں کے دفنانے کی فیس میں اضافے کی تجویز زیرغور ہے۔ امکان ہے کہ حکومت جلد اس تجویز کی حتمی منظوری دے دی گی جس کے بعد دارالحکومت دمشق اور اس کے مضافاتی علاقوں میں فوت ہونے والوں کے لواحقین کواضافی فیس ادا کرنا ہوگی۔

حکومتی ترجمان اخبار "تشرین" کی رپورٹ کے مطابق دمشق میں میتوں کے کفن دفن کے اخراجات بڑھانےکی تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملکی کرنسی "لیرہ" کی قدرمسلسل گر رہی ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت نے فی لٹر پٹرول کی قیمت ایک سو لیرہ مقرر کی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور رابطہ کمیٹیوں کے مطابق سنہ 2011ء میں شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران اب تک کم سے کم ایک لاکھ 15 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ان میں سیکڑوں ایسے ہیں جن کی آخری رسومات بھی ادا نہیں کی جاسکی ہیں یا بڑی تعداد میں میتوں کو اجتماعی رسومات کے بعد دفن کیا گیا ہے۔

اخبار"تشرین" کے مطابق حکومت موبائل فون اور دیگر مواصلاتی آلات کی قیمتوں میں بھی اضافے پرغورکر رہی ہے۔ ان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دیگر تمام اشیاء کی قیمتوں میں خود بہ خود اضافہ ہو جائے گا۔ ہرچیز کی قیمت میں اضافہ قابل فہم ہے مگر فوتدگی کی رسومات میں اضافہ کسی صورت میں قابل فہم نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ شام میں میدان جنگ یا طبعی موت سے وفات پانے والوں کی آخری رسومات مختلف انداز میں ادا کی جاتی ہیں۔ بعض متوفیان کے لواحقین کفن دفن کے بعد کئی کئی روز تک مجالس عزاء منعقد کرتے اور تعزیتی کیمپ لگائے رکھتے ہیں۔ دارالحکومت کے رہائیشی کسی شخص کی حکومت نواز فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مقتول کے لواحقین کو اس شرط پر مجلس عزاء کی اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اس کی موت کے اسباب کی تشہیر نہیں کریں گے۔ زیادہ گرم ترین محاذ جنگ میں فوت ہونے والوں کی تدفین بھی نہایت عجلت میں کی جاتی ہے، جس پرکوئی زیادہ اخراجات بھی نہیں ہوتے۔

گذشتہ اڑھائی سالہ دور بغاوت میں اب تک شام میں کئی نئے قبرستان آباد ہوچکے ہیں۔ کئی بڑے پبلک پارکوں، سیرگاہوں اور زرعی زمینوں کو قبرستانوں میں تبدیل کردیا گیا ہے جنہیں"شہداء قبرستان" کے نام دیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے حامی اور مخالفین دونوں ایسا ہی کر رہے ہیں اور اپنے مقتول ساتھیوں کو شہید قراردیا جاتا ہے۔