.

امریکا اور روس کا شام کیلیے جنیوا امن کانفرنس جلد بلانے پر زور

جان کیری نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کو اچھا آغاز قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کی شام میں قیام امن کیلیے جنیوا کانفرنس کا انعقاد جلد سے جلد کرنے کی خاطر تاریخ کا تعین کیا جائے۔ اس امر کااظہار بالی میں جاری اایشیا پیسفک کے ممالک کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر امریکی و روسی وزرائے خارجہ جان کیری اور سرگئی لاوروف نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ جنیوا امن کانفرنس نومبر کے وسط تک منعقد کی جائے۔ نیوز کانفرنس جس میں جان کیری نے پہلی مرتبہ شام کے بارے میں قدرے مثبت پیرایہ ء اظہار اختیار کیا۔ وزرائے خارجہ کا کہنا تھا '' ہم اس امر پر زور دیں گے کہ جنیوا امن کانفرنس کی تاریخ جس قدر جلد ممکن ہو طے کی جائے۔''

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا '' میں آج اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کے پچھلے مہینوں میں کیا ہوا، البتہ یہ کہوں گا کہ شام کی طرف سے یہ ایک اچھا آغاز ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی شروع ہو گئی ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔''

امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کی نیوز کانفرنس سے پہلے شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے الأخضر الإبراهيمي نے شام کے موضوع پر جنیوا امن کانفرنس کے حوالے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا تھا کہ'' امن کانفرنس کی کامیابی کیلیے پیشگی شرائط عائد نہ کریں۔''

واضح رہے آنے والے دنوں میں امکانی شام کے موضوع پر امن کانفرنس کو ''جنیوا ٹو'' کا نام دیا گیا ہے۔ اس امکانی کانفرنس میں شام میں قیام امن کیلیے عبوری حکومت کی تشکیل اور جون 2012 میں ہونے والی امن کانفرنس کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔

اس کانفرنس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ، شامی حکومت اور اپوزین کے نمائندوں، اہم عرب ملکوں کے ںمائندوں اور ایران کی شرکت کی اطلاعات ابتدا میں سامنے آئی تھیں۔