.

ایرانیوں کو جینز پہننے کی آزادی نہیں: نیتن یاہو کی پریشانی

اسرائیلی وزیر اعظم کی ٹی وی انٹرویو میں مغربی موسیقی اور ہم جنس پرستی کی وکالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو جو ان دنوں وہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے بحال ہونے کے حوالے سے کافی تشویش کا شکار ہیں نے ہفتے کے روز اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایرانیوں کو جدید مغربی لباس جینز پہنے کی اجازت نہ ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ نیتن یاہو آجکل ایران کی تازہ سفارت کاری سے کس قدر دل گرفتہ ہیں۔

ایرانیوں کو جینز پہننے کی اجازت نہ ہونے کا ذکر فارسی زبان میں نشریات کے حامل ایک برطانوی ٹیلی ویژن سے انٹرویو کے دوران اس وقت کیا جب وہ ایران کے جوہری پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے تھے کہ ایران کے یورینیم افزودگی ختم کر دینی چاہیے۔

انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ''جہاں تک مجھے علم ہے کہ اگر ایرانیوں کو آزادی حاصل ہوتی تو وہ جینز پہنتے ، مغربی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے اور آزاد اور شفاف انتخابات کراتے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ انٹرویو کو فارسی میں ڈب کر کے نشر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے انٹرویو کے ردعمل میں فوری طور پر ایرانیوں نے سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر جینز پہنے ہوئے تصاویر شائع کیں اور نیتن یاہو کے سرکاری ٹیوٹر اکاونٹ پر اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا کہ نیتن یاہو کو ایران کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ کیوں کہ نیتن یاہو ایران سے رابطے میں نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ایک نیم سرکاری نیوز کے توسط سے اپنے ردعمل میں کہا گیا کہ "مسٹر نیتن یاہو یہاں ایران میں بڑی تباہی والے ہتھیاروں کی فروخت کی دکان ہے۔ '' نیم سرکاری ایجنسی نے ٹیوٹر اکاونٹ پر جدید گارمنٹس برانڈ "ڈینم" کی تصویر لگا رکھی تھی"

ایران میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر پابندی ہے مگر ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے والے مختلف سوفٹ وئیر استعمال کر کے وہاں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک اور ایرانی شہری نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا کہ" مسٹر نیتن یاہو! میں نے تین دن قبل جینز کا ایک جوڑا خریدا ہے۔"

ایران میں حکومت کا زیادہ آزادی پسند خواتین اور مرد ہم جنس پرستوں کے ساتھ برتاو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نیتن یاہو نے ایران میں سوشل میڈیا اور سٹیلائیٹ چینلز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ "ایرانیوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ایران کے حالیہ انتخابات آزاد اور شفاف نہیں تھے جن کے نتیجے میں حسن روحانی اقتدار میں آئے ہیں۔"نیتن یاہو نے کہا "ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہی اصل میں جوہری پروگرام پر قابض ہیں۔"

خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ "میں ایسی تمام کوششوں اور مفاہمتوں کا خیر مقدم کرتا ہوں جس سے ایرانی جوہری پرگرام کو روکا جا سکے" انہوں نے فارسی زبان کے ایک راوئتی محاورہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ" زبانی جمع خرچ یا ایران کے کھوکھلے لفظوں سے ایران کےجوہری پروگرام کا تنازعہ طے نہیں ہو سکتا۔"