.

سعودی عرب: پہلی خاتون وکیل کو پریکٹس کا لائسنس جاری

رواں سال کے دوران مجموعی طور 200 وکلاء کی رجسٹریشن ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پہلی خاتون وکیل کو پیشہ وکالت اختیار کرنے اور بطور وکیل عدالتوں میں پیش ہونے کیلیے باضابطہ طور پر لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ لائسنس سعودی وزارت انصاف نے اتوار کے روز بایان الزہران نامی خاتون وکیل کو جاری کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے کے شروع میں چار خواتین وکلاء کو بتایا گیا تھا کہ انہیں اتوار کے روز لائسنس جاری کر دیا جائے گا۔

بایان الزہران نے ''العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے کہا '' وکالت کا لائسنس لینا ہمارے حقوق میں سے ایک حق ہے، ہم اسے اس وقت حاصل نہ کر سکے جب تک قانون کے آرٹیکل 3 کے مطابق عائد کردہ شرائط پوری نہیں کیں۔''

پہلی سعودی خاتون وکیل نے شاہ عبداللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا '' شاہ عبداللہ نے ثابت کیا ہے کہ انہوں نے ہمارے مستقبل کے راستے کو روشن کیا ہے تاکہ ہم اپنے پیارے ملک کی خدمت کر سکیں۔''

لائسنس کے حصول کے بعد الزہران کا کہنا تھا '' اب ممکن ہو گیا ہے کہ میں اپنا دفتر کھول سکوں، مقدمات لے سکوں تاکہ اپنے موکلوں کی مختلف محکموں اورعدالتوں نمائندگی کر سکوں اور انہیں اقنونی مشورے دے سکوں۔''

انہوں نے کہا '' سعودی عرب کے قانون کے مطابق مرد وکلاء اور خواتین وکلاء کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔''

واضح رہے سعودی وزارت قانون نے اپریل 2013 میں ایک زیر تربیت خاتون وکیل کی رجسٹریشن کی تھی ،جبکہ ایک اور خاتون وکیل نے بطور وکیل رجسٹریشن کی درخواست کی تھی۔

سعودی وزارت انصاف کے ترجمان کے مطابق رجسٹرڈ وکلاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، رواں سال کے دوران 200 نئے وکلاء کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔