.

عربوں کے خون کے پیاسے اسرائیلی "پیشوائےاعظم" کا انتقال

عوفادیا یوسف نے فلسطینیوں کو زہریلے سانپ اور بچھو قرار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں اورعربوں سے نفرت وحقارت میں آفاقی شہرت رکھنے والا اسرئیل کا "پیشوائے اعظم" عوفادیا یوسف فلسطین فوبیا کی گھٹن دل میں لیے خود بھی چل بسا ہے۔ آنجہانی عوفادیا کی 93 سالہ زندگی کا تمام شعوری دور فلسطینیوں کے مخالفت ہی نہیں بلکہ ان کے خون کے پیاسے ایک انتہا پسند یہودی ربی کے طور پر عبارت ہے۔

عوفدیا یوسف کے نزدیک فلسطینیوں کی حیثیت "کاکروچوں" اور کیڑے مکوڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے نزدیک فلسطینی زہریلے سانپ، بچھو، جوئیں اور چونٹیاں تھیں اور وہ فلسطینیوں کو مخاطب کرکے ہمیشہ انہی الفاظ میں بات کرتا۔ اس نے بارہا اپنی تقاریر میں فلسطینیوں پر بم برسا کر انہیں نیست و نابود کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہ نہتے فلسطینیوں کے بہیمانہ قتل میں ملوث یہودیوی آباد کاروں اور فوجیوں کا بہی خواہ اور ہمدرد رہا۔

عوفادیا یوسف کی پوری زندگی نشیب وفراز سے عبارت رہی، لیکن فلسطین کے عربوں اورمسلمانوں سے نفرت گویا اسے گھٹی میں پلائی گئی تھی کیونکہ یہ حقارت اس کی عرصہ حیات کے ہر دور میں پورے جوبن پر دکھائی دیتی ہے۔ اپنی اسی سرشت کو آگے بڑھانے اور نفرت کے الاؤ کو بھڑکانے کے لیے عوفودیا نے سنہ 1984ء میں اپنی قیادت میں "شاس" نامی ایک جماعت کی بنیاد رکھی۔

آنجہانی کی مذہبی سیاسی جماعت نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے انتخابات میں کئی بار حصہ لیا اور فلسطینیوں سے نفرت کی آواز کنیسٹ تک پہنچائی گئی۔ عمر کے آخری ایام میں عوفادیا زیادہ علیل رہنے لگا اور سیاسی سرگرمیاں تقریبا ختم کردی گئیں لیکن علالت کے دنوں میں بھی اس کے دل سے فلسطینیوں کے خلاف دشمنی کم نہیں ہوئی۔

پیر کے روز جب اسرائیلی ٹی وی نے عوفادیا یوسف کے انتقال کی خبر دی تو ایسے لگ رہا تھا کہ اسرائیل سکتے میں آ گیا ہے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل اور ریڈیو پرعوفادیا کی انتقال کی خبرکو کئی گھنٹے تک بریکنگ نیوز کے طور پر مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا رہا۔

عوفادیا یوسف کو رواں سال کے شروع میں بیت المقدس میں اسرائیل کے "ھداسا عین کارم" اسپال میں داخل کیا گیا۔ چند ایام کے بعد اسے وہاں سے ڈسچارج کردیا گیا لیکن پچھلے دس ماہ میں آٹھ مرتبہ اسی اسپتال میں لایا جاتا رہا اور وہیں پراس کا انتقال ہوا۔

آنجہانی یوسف عوفادیا نے سنہ 1944ء میں مارگیلیٹ نامی شامی نژاد یہودی خاتون سے شادی کی۔ مارگلیٹ کا انتقال کوئی نو سال قبل ہوگیا تھا۔ آنجہانی نے لواحقین میں نو بیٹے بیٹیاں اور 60 پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔

اللہ کا خادم یا اسرئیل کا چاکر؟

عراقی نژاد عوفادیا یوسف کے والد نے اپنے نوزائدہ بیٹے کا نام دادا کے نام پرعبداللہ رکھا لیکن 1920ء میں بغداد سے بیت المقدس منتقلی کے بعد عبداللہ کے بجائے عبرانی نام"عوفادیا" رکھا گیا۔ عبرانی زبان میں عوفادیا کا مطلب "اللہ کا خادم" ہے۔ اپنے نام کے برعکس عوفادیا نے پوری زندگی یہودی انتہا پسندی کو فروغ ، فلسطینیوں سے نفرت اوراسرائیل کی چاکری کی۔

گوکہ انتہا پسند یہودیوں میں مقبول شخصیت ہونے کے ساتھ وہ بعض مذہبی اور لبرل حلقوں میں متنازعہ بھی رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شہرت فلسطینیوں کے خلاف اس کی نفرت بھری تقریریں، بیانات اور 'فتاویٰ' تھے۔ سنہ 2000ء عوفادیا نے "فرمودات دینی" کے عنوان سے ایک تقریرکی جو بعد میں ایک کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔

اس میں عوفادیا نے فلسطینیوں کے خلاف نفرت کے آخری درجے میں استعمال ہونے والے الفاظ کہے۔ اس نے کہا کہ "میں نے کہا نا کہ عرب کیڑے مکوڑے ہیں۔ میں سال ہا سال سے کہتا چلا آ رہا ہوں کہ فلسطینی زہریلے سانپ اور بچھو ہیں۔ انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اسرائیل بم برسائے۔ بمباری اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک آخری عرب لقمہ اجل نہیں بن جاتا"۔

عوفادیا کے اکسانے پر معلوم نہیں کتنے بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہوگا۔ آج اس کے انتقال پرجہاں فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں عوفادیا کے چاہنے والے غم سے نڈھال ہیں۔