.

مصر: فوج کے حملوں میں اخوان کے 53 حامی جاں بحق، 270 زخمی

جنگ 6 اکتوبر1973ء کی سالگرہ خون میں نہا گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج اور قانون نافذ کرنے والوں نے ایک مرتبہ پھرعوام پرطاقت کا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔

قاہرہ وزارت صحت کی جانب سے اتوار کے روز فورسز کے حملوں میں مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے 53 حامیوں کی ہلاکت اور تین سو کے قریب زخمیوکی تصدیق کی ہے۔جھڑپیں رات گئے تک جاری رہی ہیں، جن کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اتوار چھ اکتوبر کو حکومت کے حامی اور مخالفین نے اپنے اپنے طورپر جنگ اکتوبر 1973ء کی یاد میں جلسے جلوسوں کا اعلان کر رکھا تھا۔ اخوان المسلمون کے حامیوں نے چھ اکتوبر کو حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالنے اور معزول صدر محمد مرسی کی رہائی کے لیے مظاہروں کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس کے جواب میں حکومت نے چھ اکتوبر کو عام تعطیل کا اعلان کرنے ساتھ ساتھ جنگ کی سالگرہ کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مصرکے ایمرجنسی میڈیکل سپورٹ پرگرام کے چیئرمین ڈاکٹرخالد الخطیب نے خبرر ساں ایجنسی"مینا" کوبتایا کہ قاہرہ میں 25 افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ الجیزہ سے پندرہ میتیں، بنی سویف میں تین اور المنیا ضلع میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرالخطیب کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں براہ راست فائرنگ اور کارتوس گولیاں لگنے سے ہوئیں ہیں۔ اسپتالوں میں پہنچائے جانے والے درجنوں زخمی افراد کو بھی گولیاں ماری گئی ہیں۔

قبل ازیں مصرکے سرکاری میڈیا نےاپنی یک طرفہ رپورٹس میں بتایا تھا کہ قاہرہ میں اخوان کےحامیوں نے اپنے مخالفین اور سیکیورٹی اہلکاروں پرحملہ کیا، جس کے رد عمل میں فورسز کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوارکے روز دارالحکومت قاہرہ کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ فوج اور پولیس نے اخوان المسلمون کے حامیوں کو میدان تحریر میں جمع ہونے اور حکومت کے خلاف دھرنا دینے سے سختی سے روک دیا۔

ادھرالنصر شہرمیں رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں بھی اخوان المسلمون کے حامیوں نے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا مگر اسے بھی پولیس نے ناکام بنا دیا۔ پولیس نے اتوار کو علی الصباح میدان العدویہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرکے مظاہرین کو اس طرح بڑھنے سے روک دیا تھا۔

خیال رہے کہ اسی گراؤنڈ میں اگست میں اخوان المسلمون کے حامیوں نےصدر مرسی کی برطرفی کےخلاف دھرنا دے رکھا تھا۔ پولیس اور فوج نے خونی کریک ڈاؤن میں اخوان کا دھرنا تو ختم کرا دیا تھا مگراس کے نتیجے میں ملک میں سخت کشیدگی پھیل گئی تھی۔

اخوان المسلمون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوارکے روزقاہرہ میں شاہراہ قصر عینی سے گذرتے والے ایک جلوس پرپولیس نے حملہ کرکے کئی افراد کو زخمی اور دجنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اخوان کے حامی جلوس کی شکل میں قاہرہ میں الرمسیس گراؤنڈ میں جمع ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن سیکیورٹی فورسزنے ان پر براہ راست گولیاں چلائیں اور طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین کو منتشر ہونا پڑا ہے۔

مصرکے دیگرشہروں سے بھی پولیس اور اخوان کے حامی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آ رہیں۔ سرکاری میڈیا موجودہ کشیدگی کو اخوان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم کی شکل دے رہا ہے اور خون خرابے کی تمام ذمہ داری بھی اخوان المسلمون کے حامیوں پر ڈالی جا رہی ہے۔