جنیوا امن کانفرنس سے پہلے ضمانتیں درکار ہیں: احمد الجربا

جرائم پیشہ عناصر سے نہیں صرف قوم پرستوں سے بات چیت ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے اڑھائی برسوں پر پھیلے شامی بحران اور خانہ جنگی کے خاتمے کیلیے امکانی جنیوا امن کانفرنس کے حوالے کہا ہے کہ شامی اپوزیشن اس میں شرکت پر تیار ہے، تاہم اس کی کامیابی کیلیے پہلے سے کچھ ضمانتیں چاہتے ہیں۔ احمد الجربا کا کہنا تھا ''اگر یہ ضمانتیں فراہم ہو گئیں تو وہ ان سے شامی انقلابی فورسز کو آگاہ کر سکیں گے۔''

شامی اپوزیشن لیڈر الجربا جو ایران کو اہل شام کا دشمن سمجھتے ہیں، ایران کے جنیوا امن کانفرنس میں شرکت کی اطلاعات کے بارے میں کہا '' ایران شام کا دشمن اور شامی سرزمین پر قابض ملک ہے اس لیے اسے جنیوا ٹو میں ایک ثالث کے طور پر شرکت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔''

شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کا کہنا تھا '' ایران اور لبنان کی حزب اللہ، بشارالاسد رجیم کے ساتھ مل کر باغیوں کو مار رہی ہے، اس لیے ہم حزب اللہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حزب اللہ شام سے جلد نکل جائے۔''

انہوں نے بشار رجیم کے بارے میں کہا'' جرائم پیشہ رجیم کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی ہے، قومی مکالمہ صرف قوم پرست قوتوں کے ساتھ ممکن ہو سکتا ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں احمد الجربا کا کہنا تھا ''آج بھی حزب اللہ ہمارے پیارے اہل شام کو قتل کر رہی ہے،اس لیے ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ حزب اللہ خود کو صوبہ حیفہ میں کس طرح ایک اپوزیشن جماعت قرار دیتی ہے۔''

واضح رہے شامی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ کے یہ خیالات اس وقت سامنے آئے ہیں جب شام کیلیے اقوام متحدہ کے

نمائندے الاخضر ابراہیمی نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جنیوا امن کانفرنس میں غیر مشروط طور پر شریک ہوں۔ جنیوا امن کانفرنس جسے جنیوا ٹو کا نام دیا جا رہا ہے اس کے ماہ نمبر میں انعقاد کے لیے امریکا اور روس نے اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں