لیبیا: فوجی کارروائی کرنے پر امریکی سفیر کو عدالتی نوٹس

امریکی کمانڈوز نے القاعدہ کمانڈر کیلیے ابیٹ آباد طرز کا آپریشن کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کی حکومت نے امریکی سفیر دیبورا جونز کو لیبیا کی شہریت کے حامل القاعدہ کمانڈر ابو انس لیبی کی گرفتاری کے لیے امریکی سپیشل فورس کے آپریشن کا نوٹس لیتے ہوئے طلب کر لیا ہے۔ لیبیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے یہ طلبی وزارت انصاف کی طرف سے کی گئی ہے۔

وزیر انصاف صلاح المرغنی نے لیبیا میں امریکا کے سفیر کو وزارت انصاف کی طرف سے پوچھے گئے سوالات پر اپنا موقف پیش کرنے کیلیے کہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طرابلس سے گرفتار کیے گئے بعد القاعدہ کمانڈر کو بحیرہ روم میں موجود امریکی بحریہ کے جہاز پر منتقل کر کے زیر تفتیش رکھا گیا ہے۔ ابو انس لیبی سے عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2009ء میں تشکیل دیا گیا ایف بی آئی اور قومی سکیورٹی کا مشترکہ تفتیشی گروپ تفتیش کر رہا ہے۔

امریکی تفتیش کار ابو انس لیبی سے 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر ہونے والے حملوں کے بارے تفتیش کر رہے ہے۔ واضح رہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 224 ہلاکتیں ہوئِیں تھیں۔ ان واقعات کے حوالے سے ابو انس امریکا کو انتہائی مطلوب افراد میں سر فہرست تھا۔

نیویارک میں امریکی فیڈرل عدالت کی جانب سے مشرقی افریقہ میں غیر قانونی کاروبار کرنے کے الزام اور بم حملوں کی وجہ لیبی کی سر کی قیمت 5 ملین امریکی ڈالر تھی۔

لیبیا کی حکومت نے اپنی سرزمین پر غیر قانونی طور پر کیے گئے کمانڈو آپریشن کے حوالے سے لیبی کی گرفتاری پر واشنگٹن سے وضاحت طلب کی۔ اس سے پہلے امریکی کمانڈو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے پاکستان کے انتہائی حساس اور فوجی شہر ابیٹ آباد میں بھی ایسا ہی ایک آپریشن کر چکے ہیں جس میں اسامہ بن لادن کو زندہ گرفتار نہیں کیا سکا تھا۔ بعد ازاں اسامہ بن لادن کی لاش سمندر برد کر دی گئی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کو لیبیا کے حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ طرابلس واشنگٹن کی طرف سے فراہم کردہ ان تمام رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے جس میں لیبیا کے شہری کی گرفتاری عمل میں لائی جانے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

لیبیا کی حکومت نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ کہ جلد از جلد لیبیائی شہری کو ان کے حوالے کیا جائے چاہے اس کے خلاف کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہو تمام تر معاملہ لیبیا کی سرزمین پر کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں