مصر، سعودی عرب سربراہ ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

عبوری صدر عدلی منصور کا پہلا بیرون ملک دورہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کے عبوری صدر ایڈووکیٹ عدلی منصور نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزسے پہلی طویل ملاقات کی ہے۔ دونوں سربراہاں نے ملاقات میں باہمی تعاون بڑھانے اور مصر میں سیاسی استحکام کے لیے مساعی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری عبوری صدر اپنے پہلے بیرون ملک دورے پرگذشتہ روز سعودی عرب کے شہرجدہ پہنچے تھے جہاں ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیزنے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ بعد ازاں مصری صدر نے خادم الحرمین الشریفین سے طویل ملاقات کی۔ سربراہ ملاقات میں سعودی فرمانروا نے مصر کو مشکل وقت میں ہرممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، گمراہی اور فتنہ و فساد کے خلاف قاہرہ کی جنگ میں ریاض بھرپور تعاون جاری رکھے گا اور مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شاہ عبداللہ نے مصری عبوری صدر اوران کے ساتھ آئے دیگر مہمانوں کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا اور امید کی وہ سعودی عرب میں قیام کے دوران اطمینان اور خوشی محسوس کریں گے۔ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے مصری صدر نے اپنی حکومت اور قوم کی جانب سے سعودی عرب کے بے لوث تعاون پرشاہ عبداللہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں مشکل وقت میں سعودی عرب کی قوم اور حکومت دونوں نے بھرپور مدد کرکے اسلامی بھائی چارے کا حقیقی ثبوت پیش کیا ہے۔ وہ ریاض کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر مصر سعودی عرب کے مالی تعاون پر شکر گذارہے۔ ملاقات کے دوران برادر ملکوں میں زندگی کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مصر، سعودی عرب سربراہ ملاقات میں علاقائی اورعالمی معاملات پربھی بات چیت کی گئی۔

خیال رہے کہ تین جولائی کو سابق منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد عبوری صدر بنائے گئے ایڈووکیٹ عدلی منصور کا تین ماہ کے بعد یہ پہلا بیرون ملک دورہ ہے۔ اس دورے کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے قاہرہ کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں سعودی عرب اپنے دعوے پرعمل کرے گا اور قاہرہ کی مزید اقتصادی مدد جاری رکھے گا۔

قبل ازیں جدہ میں سعودی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی مصرکے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر اور سعودی عرب دیرینہ اتحادی ہیں اور ریاض مشکل وقت میں قاہرہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

مصری صدر کے ہمراہ دورے پر آئے ان کے میڈیا ایڈوائزر احمد المسلمانی نے جدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سعودی عرب اور مصر کے درمیان شکوک و شبہات کے بیج بونا چاہتے ہیں مگر دونوں ملکوں کو اپنے مشترکہ دشمنوں کا بخوبی ادراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور سعودی عرب پوری عرب برادری کے "حفاظتی والو" کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مسٹر مسلمانی کا کہنا تھا کہ صدر عدلی منصور کی شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد مصر اقتصادی اور سیاسی طورپر مزید مضبوط اور مستحکم ہو گا۔

مصری صدر کے دورہ سعودی عرب پر بات کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ نگار عمر شوبکی نے کہا کہ عدلی منصور کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا نقطہ آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جنوری 2011ء کے انقلاب کے بعد بننے والی حکومتوں کے دوران دونوں ملک ایک دوسرے کے حوالے سے محتاط ہو گئے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو بعض معاملات پر "انتباہ" بھی کیا تھا لیکن سعودی عرب کی جانب سے تعاون میں کمی پھر بھی نہیں کی گئی۔ ریاض، مصر میں جاری سیاسی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتا رہا ہے۔

"العربیہ" ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مسٹر الشوبکی کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے ریاض اور قاہرہ کے درمیان معمولی نوعیت کے بحران بھی دکھائی دیے ہیں لیکن تیس جون کے انقلاب کے بعد دونوں ملک ایک نئے سفر پر زیادہ اعتماد کے ساتھ چل پڑے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مصری فوج کی جنگ میں سعودی عرب کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور اسی تعاون نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو بحال کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں