اللیبی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا: اوباما

امریکا افریقی ممالک میں القاعدہ گروپوں کا تعاقب جاری رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے لیبیا میں امریکی آپریشن کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے القاعدہ کمانڈر ابو انس اللیبی کے حوالے سے کہا ہے کہ اللیبی کو انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔ اوباما نے اس امر کا اظہار ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے.

واضح رہے اللیبی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کر کے سینکڑوں افراد کی جان لینے کا الزام ہے۔ لیبی ایک طویل عرصے سے امریکا کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور اس کے سر کی قیمت پانچ ملین ڈالرمقرر کی گئی تھی۔ آج کل بحیرہ روم میں امریکی بحری بیڑے پر زیرتفتیش ہے۔

صدر اوباما نے اللیبی کے حوالے سے مزید کہا ''ہمارے پاس مضبوط شہادتیں موجود ہیں کہ لیبی نے امریکی شہریوں کے قتل میں حصہ لیا تھا، اس لیے اسے اب عدالت میں لایا جائے گا۔'' اس موقع پر انہوں نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ امریکا افریقی ممالک میں القاعدہ سے منسلک گروپوں کا تعاقب جاری رکھے گا۔''

امریکی صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا افریقی ممالک میں القاعدہ گروپوں کا تعاقب کھلی جنگ کے مترادف نہیں ہو گا۔'' اوباما کا کہنا تھا ''جہاں بھی ایسے نیٹ ورک ہوں گے ان کا پیچھا کیا جائے گا۔''

امکان ہے کہ اللیبی پر امریکا کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ چلایا جایا جائے گا۔ امریکی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کمانڈر اللیبی کو اس انداز سے لیبیا کے اندر سے گرفتار کرنے پر لیبیا کی حکومت نے مذمت کی ہے اور اس سلسلے میں امریکی سفیر کو لیبیا کی عدالت نے طلب بھی کر لیا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں