وادی گولان میں فائرنگ کے نتیجےمیں دو اسرائیلی فوجی زخمی

حملہ کس طرف سے کیا گیا اس کا تعین نہیں کیا جا سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے مقبوضہ علاقے وادی گولان میں اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں زخمی طبی امداد کے بعد خریت سے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی' نے اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وادی گولان میں اسرائیلی فوجیوں پر جس سمت سے فائرنگ کی گئی تھی، اسی سمت منہ توڑ جواب دیا گیا ہے تاہم سیکیورٹی ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ آ حملہ کس طرف سے کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس سارے واقعے کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

عبرانی اخبار"یدیعوت احرونوت" کی ویب سائٹ "وائی نیٹ" کے مطابق بدھ کے روز وادی گولان میں دو اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک فوجی اہلکار کو بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد اس کا شیل لگا ہے جبکہ دوسرا اپنے ساتھی کی کیفیت کو دیکھ کر صدمے سے نڈھال ہو گیا تھا۔ اخبار کے دعوے پر اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے اس امرکی وضاحت نہیں کہ آیا فوجی بارودی سرنگ پھٹنے سے زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ شام کی وادی گولان پراسرائیل نے سنہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ عالمی سطح پر یہ علاقہ متنازعہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ شام اس علاقے پراپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ شام میں صدر بشارالاسد کےخلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے بعد یہ علاقہ بھی سیکیورٹی نقطہ نظر سے حساس سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے وادی میں بڑی تعداد میں فوجیں اتار رکھیں ہیں جو شام کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کا فوری جواب دیتی ہیں۔

گذشتہ ستمبر اور اگست کے مہینوں میں مقبوضہ وادی گولان میں راکٹ گرنے کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ان راکٹ حملوں میں اسرائیل کا کوئی نقصان تو نہیں ہوا تاہم صہیونی فوج نے جوابا شامی علاقوں میں فائرنگ کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں