شام: حزب اللہ کے ہاتھوں زخمی باغیوں کا سفاکانہ قتل عام

واقعے سے تنظیم کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں ایک نیا سفاکانہ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ انٹرنیٹ پر لوڈ کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو القصیر شہر میں زخمی مخالفین کو نہایت بے دردی سے قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو فوٹیج کے پس منظرمیں سنائی دینے والی آوازوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ زخمیوں کو بہیمانہ طریقے سے گولیاں مار کر قتل کرنے والے جنگجوؤں کا تعلق حزب اللہ سے ہے اور وہ لبنانی لہجے میں عربی میں باتیں کر رہے ہیں۔ ویڈیو فوٹیج کے نہایت ہولناک مناظر میں بے بس زخمی اپنی جانوں کی امان طلب کرنے کے لیے حزب اللہ عناصر سے مسلسل فریاد کرتے سنائی دیتے ہیں لیکن گریہ زاری کے جواب میں ان پر نہایت بے رحمی کے ساتھ گولیوں کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے برادر ٹی وی نیٹ ورک 'العربیہ الحدث' نے انٹرنیٹ سے ملنے والی فوٹیج نشر کی ہے تاہم اس ہولناک واقعے کی تاریخ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ خیال رہے کہ دمشق کے قریب واقع القصیرشہر پر گذشتہ برس باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا مگر رواں سال جون میں سرکاری فوج نے حزب اللہ کی مدد سے ایک مرتبہ پھر بھرپور حملہ کر کے باغیوں کو پسپا کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ شہر بشارالاسد کی وفادار فوج اور ان کی حامی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے۔

حزب اللہ کی دہشت گردی پر ردعمل
زخمی باغیوں کے بہیمانہ قتل پر لبنان اور شام دونوں ملکوں میں حزب اللہ کے خلاف سخت نفرت پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شام میں زخمی باغیوں کے مبینہ قتل عام کےہولناک مناظرپرمبنی ویڈیو فوٹیج کے سامنے آنے کے بعد حزب اللہ کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ویڈیو فوٹیج پر بات کرتے ہوئے لبنانی صحافی و تجزیہ نگار علی الامین نے کہا کہ "یہ ایک ایسا افسوسناک اور ہولناک واقعہ ہے جسے لبنانی عوام بھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔ اگرچہ زخمیوں کے قتل عام کا یہ واقعہ شام میں پیش آیا ہے لیکن اس میں حزب اللہ کا نام لیا جانا ہی کافی ہے۔ اس واقعے کے بعد لبنان میں بھی حزب اللہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں پہلے ہی صورت حال کشیدہ ہے۔ حزب اللہ کے شام کی جنگ میں ملوث ہونے کے بعد لبنان میں امن وامان کو دھچکا لگ چکا ہے۔ اگر شیعہ ملیشیا کا کوئی نیا خوفناک اسکینڈل سامنے آتا ہے تو تنظیم کے خلاف لبنان میں نفرت میں اضافہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size