کیمیائی ہتھیار تلفی پروگرام، مزید ماہرین کی شام روانگی کا امکان

ماہرین ایک سال میں کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ ممکن بنا لیں گے: پیوٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی تنظیم برائےامتناع کیمیائی ہتھیار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عنقریب شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کی تصدیق اور خاتمے کیلئے معائنہ کاروں کی ایک اور ٹیم روانہ کی جائیگی۔

تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل أحمد أوزومكو نے''العربیہ'' کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ''شام میں ایک نئے اور خوشگوار آغاز کیلئے زیادہ سے زیادہ کوششیں جاری ہیں، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مرحلہ کٹھن اور صبر آزما ہو گا۔

ذرائع کے مطابق امریکہ اور روس کے مابین معاہدے کے پیش نظر معائنہ کاروں کی ٹیم کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے نکات کے مطابق شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر تباہ کرنے کیلئے 2014ء کے وسط تک کا ہدف مقرر ہے۔

یاد رہے کہ یہ منصوبہ 21 اگست کو شامی دارالحکومت میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد بنایا گیا جس میں امریکہ کے اندازے کے مطابق 1400 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ادارے کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا '' شامی حکومت نے 4 اکتوبر کو اضافی معلومات پیش کرنے کی اور اسکے ساتھ 6 اکتوبر کو شامی عہدیداران نے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائرکی تباہی شروع کر دی ہے۔''

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اس مشن کیلئے أحمد أوزومكو نے اقوام متحدہ کی جانب سے سکیورٹی اور فیلڈ میں نقل و حمل کی ذمہ داری سونپنے کا معاہدے پر جلد دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن سے منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے بعد ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ "روس اور امریکہ بھی شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر تباہ کرنے کیلئے حتمی فیصلے پر پہنچ چکے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین ایک سال میں کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ ممکن بنا لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں