''منتخب صدر برطرفی'' مصر کی فوجی امداد نہیں روکی: وائٹ ہاوس

آئندہ دنوں امریکا اور مصر کے تعلقات میں مزید بہتری نظر آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے پہلے منتخب صدر مرسی کی برطرفی کے بعد امریکا نے سامنے آنے والی ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکا نے مصر میں فوج کے غیر جمہوری اقدام کی وجہ سے اس کی فوجی امداد روک دی ہے۔

اس امر کا اظہار قومی سلامتی کونسل کی ترجمان خاتون کیٹلین ہیڈن نے اپنے تازہ جاری کردہ بیان میں کیا ہے کہ مصری فوج کی امداد روکی جانے سے متعلق تمام خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔

امریکی ترجمان کے مطابق"مصر کے ساتھ امریکی تعلقات کس قدر اہم ہیں اس بات کا اندازہ آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا، جیسا کہ نیویارک میں صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں یہ واضح کر دیا ہے کہ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔''

واضح رہے کہ کٹلین ہیڈن کا حالیہ بیان ایک امریکی عہدیدار کے عالمی خبررساں ادارے کو دیے گئے اس بیان '' امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ زیادہ تر فوجی امداد سے روکنے سے ملک میں جاری دہشت گردی اور مصر کے اسرائیل کے درمیان سرحد جزیرہ نما صحرائے سینا کا تحفظ اور دیگر ترجیحی امور میں میں کمزوری آئے گی '' کے بعد سامنے آیا ہے۔

دریں اثنا امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک اہم ذریعے نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ'' جولائی 2013ء میں مصری صدر محمد مرسی کو فوج کی طرف سے اقتدار سے ہٹانے جانے اور مصرمیں جاری ہنگاموں میں ہلاکتوں کے پیش نظر امریکی امداد روکنے کرنے کی تجویز بھی تھی۔''

امریکی ترجمان کے مطابق یہ ساری خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور مصر کے تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا مصر کو ایک اعشاریہ پچپن ارب ڈالر کی خطیر رقم سالانہ امداد کی مد میں ادا کر رہا ہے جس میں ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر صرف فوجی امداد کی مد میں دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں