.

شام: عید پر جنگ بندی کیلیے عرب لیگ اور آو آئی سی متحرک

تیس ماہ کے دوران ایک لاکھ بیس ہزار افراد مارے گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ اور اسلامی ممالک کی تنظیم [او آئی سی] نے شامی حکومت، سرکاری افواج اور بشارالاسد کیخلاف لڑنے والی باغی افواج پر زور دیا ہے کہ عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے دوران شام میں مکمل طور پر جنگ بندی کی جائے۔

یاد رہے کہ شام کی اڑھائی سال پرانی جنگ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد لوگ مارے جانے کے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو کر پڑوسی ممالک کے پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب مغربی ممالک کی طرف سے شامی صدر کے اقتدار چھوڑنے کے دباو میں کمی پر مائل کرنے کی روسی کوششوں سے شام میں جاری طویل خانہ جنگی کے ختم ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل صاحبان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تمام متحارب گروہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مکمل جنگ بندی کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی پر تشدد کارروائیوں اور قتل وغارت گری سے گریز کریں۔

زیادہ تر عرب ممالک میں عید الاضحی کی تعطیلات شروع ہونے والی ہیں. عرب شہری اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے ہیں، جبکہ لاکھوں شامی پناہ گزین اس سال بھی عید اپنے گھروں اور وطن سے دور منانے پر مجبور ہوں گے۔