.

شام کی تخفیف اسلحہ بارے کوششیں قابل تحسین ہیں: سلامتی کونسل

کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کا کام بڑا نازک ہے: بان کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سامتی کونسل نے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے میں تعاون کرتے ہوئے شام کی تعریف کی اور کہا ہے کہ اس تعاون سے دینا ایک انسانی المیے سے بچ گئی ہے۔ سلامتی کونسل کے بقول شام نے جس اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ اس امر کا اظہار اقوام متحدہ میں روسی نمائندے نے کیا ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کہہ چکے ہیں کہ'' شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کی تخفیف کا مرحلہ بہت نازک ہے اور اسی حوالے سے 100 ماہرین کی ایک ٹیم شامی کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کےلیے اپنا کام شروع کر چکی ہے۔''

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سفارتکار نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ برائے انسداد کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مشترکہ مشن میں کونسل نے ایک منصوبہ طے کیا ہے ،جس کی مدد سے شام میں موجود ایسی کسی بھی صورتحال سے بخوبی نمٹا جا سکتا ہے۔

فرانس کے اقوام متحدہ کے لیے سفیر جیراڈ ارود نے واضح کیا کہ ''سلامتی کونسل کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ اقوام متحدہ اور عالمی انسداد کیمیائی ہتھیاروں کا ادارہ شام میں ایک قابل تحسین کام کر رہا ہے۔''

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے چورکین نے شام کی طرف سے بہتر تعاون کی نشاندہی پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ثالثی کے امریکا اور روس کے معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق عالمی تنظیم برائے امنتاع کیمیائی ہتھیاروں کی ٹیم 2014 کے وسط تک شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کر دے گی ۔

شامی حکومت کی جانب سے وصول ہونے والے مراسلے میں ان 45 مختلف جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں 1000 ٹن سے زائد سارین، مسٹرڈ گیس اور دیگر ممنوعہ کیمیائی مواد ذخیرہ کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے ایک مراسلہ تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار کو بھیجا گیا ہے، تاکہ ایک مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ امید ظاہر کی گئی ہے کہ جمعہ کی شام تک ایک مثتب جواب سامنے آئے گا اور بان کی مون جانب سے قبرص اور دمشق میں موجود اڈوں پر ایک مشترکہ مشن کے حوالے سے نئے قائد کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔