.

لیبیا: مجھے ایک سیاسی جماعت نے یرغمال بنایا تھا، علی زیدان

لیبی کی گرفتاری کا پیشگی علم نہیں تھا، رہائی میں مدد دینے والوں کا شکریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان نے جمعرات کے روز تقریبا چار گھنٹوں تک اپنے مبینہ اغوا کی ذمہ داری ایک سیاسی جماعت پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں اس سیاسی جماعت کا نام بھی سامنے لے آئیں گے۔ انہوں اپنے مبینہ اغوا کو یرغمال بنائے جانے سے تعبیر کیا اور وضاحت کی لیبیا سے القاعدہ کمانڈر ابو انس اللیبی کی گرفتاری کیلیے کیے گئے امریکی آپریشن کی انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

علی زیدان جنہیں جمعرات کے روز دارالحکومت کے ایک ہوٹل سے علی الصباح مبینہ طور پر مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا اور بعد ازاں دارالحکومت کے جنوب میں ایک پولیس سٹیشن لے گئے تھے رہائی کے بعد بظاہر معمول کے امور میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ رہائی کے بعد انہوں نے فرانس کے ایک ٹی وی کو اپنے پہلے انٹرویو میں مذکورہ بالا خیالات کا اظہار کیا ہے۔

علی زیدان کے مطابق انہیں ایک ساسی جماعت سے وابستہ افراد نے یرغمال بنایا تھا، اور وہ سیاسی جماعت ووٹ یا کسی بھی دوسرے طریقے کے ذریعے اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔'' علی زیدان کے بقول "یہ سیاسی جماعت موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے تاکہ خود اقتدار میں آ سکے، اس مقصد کی خاطر جمہوری، غیر جمہوری یا طاقت سے حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے"۔

واضح رہے وزیر اعظم لیبیا کو قذافی حکومت کے باغیوں پر مشتمل مسلح گروپ نے یرغمال بنایا تھا۔ بعد ازاں وزارت انصاف نے وزیر اعظم کے اغوا کی تصدیق کی تھی جبکہ وزارت داخلہ نے ان کے اپنی حفاظت میں ہونے کی اطلاع دی تھی۔

معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم کو یرغمالیوں نے ایک پولیس سٹیشن میں بند رکھا تھا اور بعد ازاں تھانے کے باہر مسلح عوامی ہجوم کے باعث وزیراعظم کو وہاں سے رہا کیا گیا۔

وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا ''میں آئندہ دنوں اس سیاسی جماعت کے حوالے سے مزید اطلاعات سامنے لاوں گا نیز بتاوں گا کہ یہ کونسی سیاسی جماعت ہے جس کے لوگوں نے انہیں یرغمال بنایا تھا۔''

وزیراعظم نے اس بارے میں بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں القاعدہ کمانڈر کی گرفتاری کا کتنا علم تھا۔ وزیر اعظم علی زیدان کا کہنا تھا '' مجھے یر غمال بنانے والوں نے مجھ سے اس بارے میں بھی پوچھا تھا، تاہم میں نے انہیں بتایا تھا کہ اس گرفتاری سے پہلے ان کے علم میں امریکی کمانڈوز کی کارروائی سے متعلق کوئی اطلاع نہ تھی۔''

خیال رہے لیبیا کے وزیراعظم کو یرغمال بنانے کا واقعہ ابو انس اللیبی کی گرفتاری کے پانچ دن بعد پیش آیا ہے۔ ادھر وزیر اعظم نے تھانے سے رہائی کے بعد اپنے خیر خواہوں کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا جبکہ بعد ازاں رہائی میں مدد دینے والے باغیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم علی زیدان رہائی کے بعد کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کر چکے ہیں اور معمول کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی طرف مائل ہیں.