دمشق میں مارٹر گولوں سے حملہ، آٹھ سالہ بچہ جاں بحق

حملے میں کیمیائی معائنہ کاروں کے ہوٹل سے متصل دکانیں اور گاڑیاں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے دارالحکومت میں مارٹر توپوں کے دو گولے فائر کیے جانے سے ایک آٹھ سالہ بچہ جاں بحق جبکہ گیارہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ مارٹر کے یہ گولے اس ہوٹل سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر گرائے گئے ہیں، جس میں اقوام متحدہ کے کیمیائی معائنہ کار ان دنوں انتہائی حفاظتی ماحول میں قیام پذیر ہیں۔

کچھ دنوں سے شام کی باغی افواج دمشق کے گرد و پیش میں مارٹر حملوں اضافہ کیے ہوئے ہیں۔ شامی خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق ان گولوں کے استعمال سے کافی نقصان ہوا ہے۔ دونوں گولے دارالسلام سکول نجمہ سکوائر کے سامنے گرے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز بھی دو مارٹر گولوں سے شام کے مرکزی بنک کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ ایک ہفتہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں عراقی قونصل خانے کو ٹار گیٹ کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون ایک سے زائد مرتبہ شام میں کیمیائی معائنہ کاروں کے مشن کو خطرات میں گھرا ہوا بتا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں