"خدائی مددگار" نے پانچ ملین ریال دیکر سعودی شہری کی زندگی بچا لی

مقتول کے ورثاء نے معافی کے لیے ایک کروڑ ریال دیت مقررکی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک نامعلوم مخیر [خدائی مدد گار] نے سعودی عرب میں قصاص کے سزا یافتہ شخص کے خانداندن کو پانچ ملین ریال دیت کی رقم ادا کرکے قاتل کی جان بچا لی ہے۔ سعودی شہری عبدالرحمان العتیبی پرالزام ہے کہ اس نے اپنے ایک اماراتی دوست کی جان لی تھی جس کے جرم میں اسے سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم مقتول کے ورثاء نے قاتل کی معافی کے لیے ایک کروڑ ریال دیت مقرر کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملزم العتیبی کے خاندان کیجانب سے پچاس لاکھ ریال کی رقم کا انتظام کیا گیا تھا مگروہ بقیہ نصف رقم کے حصول میں ناکام ہوگئے تھے۔ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ مہلت ختم ہونے کے قریب تھی کہ اس دوران نامعلوم 'خدائی مدد گار' نے خفیہ طور پر پانچ ملین ریال عدالت میں جمع کرا کے مجرم کو سر قلم ہونے سے بچا لیا۔

رپورٹ کےمطابق قتل کا یہ واقعہ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے ضلع "الدودامی" میں پیش آیا تھا۔ ملزم العتیبی کا اپنے متحدہ امارات کے ایک دوست عبدالالہ کے ساتھ کسی بات پرجھگڑا ہوگیا۔ دونوں میں ہاتھا پائی کے بعد عبدالالہ بے ہوش کر زمین پرگر پڑا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہوسکا اور دم توڑ گیا۔ عدالت نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے عبدالرحمان کو قصاص کی سزا سنائی، تاہم مقتول کے ورثاء نے دس ملین ریال دیت ادا کرنے کی شرط پرمعافی کا بھی فیصلہ کرلیا۔ ملزم کے خاندان کے لیے دس ملین ریال کی خطیررقم جمع کرنا ناممکن تھا۔ انہوں نے تمام تر تگ دو کے بعد صرف پانچ ملین ریال کا بندوبست کیا، جس کے بعد ان کے سامنے تمام راستے بند تھے اور وہ کسی خدائی مدد گار کےانتظار میں تھے۔

نامعلوم مخیر کی جانب سے مدد کے اعلان کے بعد قاتل کے والد زید الثبیتی العتیبی نے کہا کہ "میرے بیٹے کی جان بچانے کے لیے جس جس نے بھی میری مدد کی ہے، میں اس کے لیے نیک اجر کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ دیت کی ادائیگی کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی ختم ہوجائے گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں