''نوبل پرائز بشارالاسد کو دیا گا'': شامی اپوزیشن کی تنقید

انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں کا بھی نوبل انعام فیصلے پر عدم اعتماد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے کیمیائِی ہتھیاروں کی عالمی تنظیم کو نوبل پرائز دیے جانے کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے یہ شہداء کے ساتھ سنگین مذاق ہے اور بالواسطہ طور پر نوبل پرائز شامی صدر بشار الاسد اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو دے دیا گیا ہے۔

سال 2013 کے لیے نوبل پرائز جس کی مالیت ایک اعشاریہ پچیس ملین ڈالر ہے کا اعلان جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔ جبکہ یہ ماہ دسمبر میں دیا جائے گا۔ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم ان دنوں شام کے کمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی لیے شام میں بطور خاص سرگرم ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی تنظیم کی یہ سر گرمیاں 21 اگست کو دمشق کے نواح میں سارین گیس کے باعث ہونے والی تقریبا 1400 ہلاکتوں کے بعد امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں شروع ہوئی ہیں۔۔

انسانی حقوق سے متعلق ایک کارکن نوبل پرائز کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ نوبل بشارالاسد کو نوبل پرائز دیے جانے کے مترادف ہے۔ بیروت میں موجود ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر ندیم حوری کا کہنا تھا: ''میرے خیال میں 2013 کا سال کیمیائی ہتھیاروں کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی روح کی تلاش کیلیے ہونا چاہیے نہ کہ اسے شاباشی دینے کیلیے۔''


انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک اور کارکن نے اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے کہا'' یہ لوگ شام کے شہیدوں کی توہین کررہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ جان بوجھ کر شام کے متاثرہ عوام کی توہین کی جارہی ہے، کیونکہ میرے خیال میں یہ نوبل انعام بشارالاسد اور پیوٹن کو دیا گیا ہے۔''

دوسری جانب نوبل انعام کمیٹی کا کہنا ہے کہ او پی سی ڈبلیو کو اس سال نوبل انعام محض شام میں جاری سرگرمیوں کی وجہ سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس تنظیم کی مجموعی خدمات کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں