.

برطانیہ اور فرانس، تہران پر عاید پابندیوں میں نرمی نہ دکھائے: نیتن یاہو

'یہ وقت دباو میں اضافے اور اسے برقرار رکھنے کا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے برطانیہ اور فرانس پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مذاکرات سے پہلے تہران کے نیوکلیئر پروگرام کی پاداش میں عاید پابندیاں نرم کرنے سے باز رہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے ایک نامعلوم اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مسٹر یاہو نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کو ٹیلی فون کیا ہے جس میں انہوں نے دونوں رہنماوں کو باور کرایا ہے کہ تہران پر عالمی پابندیاں ثمر آور ہونے کے قریب ہیں۔

خبر رساں ادارے نے نیتن یاہو کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ "ایران، جب تک اپنا فوجی نوعیت کا نیوکلیئر پروگرام ختم نہیں کرتا، اس وقت تک پابندیاں نرم نہ کی جائیں۔ دباو کی وجہ سے ہی تہران اس مقام تک آیا ہے اور دباو کو بڑھاتے ہوئے جاری رکھ کر ہی اسے اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔"

حالیہ چند دنوں میں ایران کے نئے صدر کی جانب سے مغربی دنیا اور بالخصوص امریکا کو رام کرنے کی کوششوں پر پریشان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔ اس سے قبل انہوں نے عالمی ادارے میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کی غرض سے اکیلا ہی کوششیں جاری رکھنے کے حق میں ہے۔

مغربی دنیا اور اسرائیل کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لئے ہے جبکہ تہران میں برسراقتدار آنے والے اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی کا اصرار ہے کہ ان کے ملک کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے، جس کا مقصد ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

رائیٹرز نے دعوی کیا ہے کہ مغربی سفارتکاروں کے خیال میں ایران کی مغرب سے بہتر تعلقات کی حالیہ پالیسی کے نتیجے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم دنیا کے چھے بڑے ملکوں، بشمول برطانیہ، فرانس اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امید کی جا رہی ہے کہ ان کے نتیجے میں دس برسوں سے جاری تنازع ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے اسرائیل کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ مشرق وسطی میں صرف اسی کے پاس نیوکلئیر ہتھیار موجود ہیں