.

زبوں حال شامی باشندے کتے، گدھے اور بلیاں کھانے پر مجبور

بھوک مٹانے کے لیے مکروہ جانوروں کا گوشت کھانے کا فتویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اڑھائی سال سے جاری خانہ جنگی نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پرگہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ معیشت کی زبوں حالی، غربت، افلاس اور بھوک و ننگ نے ہرطرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں جس کے باعث مفلوک الحال لوگ مکروہ جانوروں حتیٰ کہ کتوں، گدھوں اور بلیوں کے گوشت سے پیٹ کے ایندھن بھرنے پر مجبور ہیں۔

اکیسویں صدی کے اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں شائد ایسی صورت حال کا تصور بھی محال ہے۔ اس سے قبل سنہ 1590ء میں فرانسیسیوں کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا لیکن دنیا کا خیال یہ تھا کہ شائد اس کے بعد یہ تجربہ کہیں بھی نہیں دہرایا جائے گا، لیکن شام میں صدر بشارالاسد کے مظالم کے باعث تاریخ شام میں خود کو ایک مرتبہ پھر دہرا رہی ہے۔

ویسے تو بھوک اور ننگ کی کیفیت شام کے بیشتر شہروں میں ہے لیکن دمشق کے قریب کئی ماہ سے محاصرے کا شکار"یرموک مہاجر کیمپ" اس کی بدترین مثال قرار دی جا سکتی ہے۔ بھوک اور افلاس کے شکار کیمپ کے ایک باسی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "گذشتہ روز میں نے تین کتے ذبح کیے تاکہ اہالیان کیمپ کی بھوٹ مٹانے میں ان کی مدد کرسکوں"۔

فلسطینی پناہ گزین نے بتایا کہ حال ہی میں کیمپ کی جامع مسجد کے امام اور خطیب نے یہ فتویٰ دیا کہ نوے دن سے مسلسل محاصرے کے باعث ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا ہے۔ ایسے میں ہم آوارہ کتوں اور بلیوں حتیٰ کہ گدھوں کا گوشت کھا کراپنے پیٹ کا جہنم بھرسکتے ہیں۔ اسلام ہمیں اضطرار کی حالت میں ان جانوروں کا گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہے"۔ اس فتوے کے بعد وہاں کے مجبور عوام نے کتوں، بلیوں اور گدھوں کو ذبح کرنا شروع کر دیا ہے"۔

فلسطینی پناہ گزین کے بہ قول جامع مسجد کے امام نے فتوے کی روشنی میں ہمیں مکروہ حتیٰ کہ مردہ جانوروں کا گوشت اس وقت تک استعمال کرنے کی اجازت دی جب تک کہ کیمپ کا محاصرہ ختم نہیں ہوجاتا"۔

اس فتوے کے بعد اہل یرموک اب آواہ پھرنے والے ایسے مکروہ جانوروں کی تلاش میں رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ مہاجر فلسطینی شہری کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کا اب اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ یا توبھوک سے بلکتے بچوں کواپنے سامنے دم توڑتے دیکھیں یا ان کی زندگیاں بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ کریں۔

خیال رہے کہ دمشق کے جنوب میں واقع یہ مہاجر کیمپ گذشتہ تین ماہ سے سرکاری فوج کےمحاصرے میں ہے۔ اسدی افواج اور ان کی حامی ملیشیا نہ صرف کیمپ میں کسی قسم کی اشیائے خوردونوش جانے سے روک رہے ہیں بلکہ انہوں نے باضابطہ طور پر کیمپ کے ایک لاکھ باشندوں کو بھوکا پیاسا مارنے کی مہم چلا رکھی ہے۔

یرموک کیمپ کا محاصرہ کیوں؟

دمشق کے قریب قائم یرموک مہاجر کیمپ صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک سے قبل شہر کا سب سے محفوظ اور پرامن علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ بشار الاسد کی ظالمانہ آمریت کے خلاف جب بغاوت پھوٹی تو بغاوت کرنے والوں میں کچھ لوگوں کا تعلق اس کیمپ سے بھی تھا۔ گو کہ اب اس کیمپ میں حکومت مخالف ایسی کوئی تحریک موجود نہیں ہے لیکن بشارالاسد کی وفادار فوج اہالیان کیمپ کے چند "سر پھرے" نوجوانوں کی جانب سے باغیوں کی حمایت کی سزا دے رہے ہیں۔

گذشتہ برس بشار الاسد کی فوج نے کیمپ کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی اور درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے 16 افراد کو سرعام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے منظم کر رہے ہیں۔ اس کے بعد سے یہ کیمپ مسلسل ابتلاء کا شکار ہے اور سرکاری فوج کئی بار کیمپ میں گھس کر وحشیانہ قتل عام بھی کرچکی ہے۔

اس کیمپ میں صرف فلسطینی مہاجرہی قیام پذیر نہیں ہیں بلکہ بڑی تعداد میں شامی باشندے بھی موجود ہیں۔ مختلف مواقع پرکیمپ کی آبادی وہاں سے نقل مکانی بھی کرتی رہی ہے اور بڑی تعداد میں شہری وہاں سے نکل کر اندورن اور بیرون ملک جا چکے ہیں۔ رہ جانے والے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ جنہیں کھانے کے لیے روٹی میسرہے اور نہ ہی تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا دستیاب ہے۔ البتہ سیکیورٹی فورسز کے چھاپے، پکڑ دھکڑ اور تشدد اہالیان کیمپ کی قسمت بن چکا ہے۔