.

شام: جیش الحر عیدالاضحٰی پر مختصر فائر بندی کو تیار

باغیوں پر مشتمل فوج نے طویل فائر بندی کا مطالبہ مسترد دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں باغیوں پر مشتمل فوج جیش الحر نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر حمص اور دمشق سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری جنگ میں مختصر دورانئے کی فائر بندی پراتفاق کیا ہے تاہم جیش الحر کا کہنا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی آڑ میں طویل فائربندی قبول نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی" نے شام میں متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عید کے ایام میں جنگ بند کردیں۔ گذشتہ روز مسلمانوں کی نمائندہ دونوں بڑی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں شام میں مسلح باغیوں اور بشارالاسد کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ عید کے دنوں میں فائر بندی کا اعلان کریں تاکہ ابتر صورت حال لے شکار شامی شہری سکون کا سانس لے سکیں۔

ادھر اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب کا کہنا ہے کہ اگرشام میں باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان طویل المدت جنگ بندی ہوجاتی ہے تو اس سے دمشق کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی عالمی مہم کو آسانی سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

قبل ازیں شام میں ہتھیاروں کی تلفی میں سرگرم عالمی ادارے نے بھی باغیوں اور سرکاری فوج سے طویل فائربندی کا مطالبہ کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شام میں سیز فائر کے بغیر ان کا مشن آگے بڑھنا مشکل ہے۔ متحارب فریقین کو کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں مدد فراہم کرنے کے لیے جنگ بند کرنا ہو گی۔