.

جنیوا کے بعد وزارتی اجلاس ضروری ہو گا: ایرانی وزیر خارجہ

جنیوا مذاکرات میں تجاویز سامنے آنے سے پہلے اعتراض مناسب نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ''سلامتی کونسل کے پانچ ارکان سمیت چھ بڑے ملکوں کے ساتھ منگل کو جنیوا مذاکرات کے بعد وزارتی سطح کی ملاقات ضروری ہو گی۔''

یہ مذاکرات کل سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کیلیے شروع کیے جارہے ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایک روز قبل ہی ان متوقع مذاکرات کے بارے میں اسرائیلی لابی اور یورپی یونین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خارجہ ایران کا کہنا تھا '' امید ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں بدھ کے روز تک ایک نقشہ کار واضح ہو جائے گا ۔'' واضح رہے جواد ظریف کے نائب عباس اراقچی جنیوا مذاکرات میں ایران کی نمائدگی کریں گے اور یہ مذاکرات 15 سے 16 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔

نئے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہ ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ان مذاکرات کیلیے روانگی سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا '' ایران کی جانب سے جنیوا میں تجاویز پیش کرنے سے پہلے ہی ان پر اعتراض کا جواز نہیں ہے۔''

نائب وزیر خارجہ نے مزید تفصیلات دیے بغیر کہا '' یورینیم کی افزودگی ایران کیلیے ایک سرخ لکیر ہے، ہم اس کے حجم، سطح اور طریقوں پر مذاکرات کریں گے ، تاہم پہلے سے افزودہ کیے گئے یورینیم کو باہر لے جانا ایران کی طرف سے ایک سرخ لکیر ہو گی۔''

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس نچلے درجے کی 6774 کلو گرام اور 186 کلو گرام درمیانے درجے کی یورینیم افزودہ حالت میں موجود ہے۔