.

شامی قومی کونسل کی نیشنل اتحاد سے علاحدگی کی دھمکی

قومی کونسل اسد مخالف قوتوں کا سب سے بڑا گروپ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد میں شامل سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل نے شامی نیشنل اتحاد سے علاحدگی کی دھمکی دیتے ہوئے جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بیروت سے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق شامی قومی کونسل نے کہا ہے کہ "اگر نیشنل کولیشن کہلانے والی متحدہ اپوزیشن نے مستقبل میں جنیوا امن مذاکرات میں حصہ لیا تو قومی کونسل، قومی اتحاد سے علاحدگی اختیار کر لے گی۔"

شامی نیشنل کونسل کے صدر جارج صبرا نے اتوار کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ "شامی قومی کونسل نے اپنا یہ حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ شام کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ جنیوا میں ہونے والی مکالمت میں شامل نہیں ہو گی۔" انہوں نے کہا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیشنل کولیشن نے جنیوا میں ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات میں حصہ لیا تو نیشنل کونسل متحدہ شامی اپوزیشن میں شامل رہنے کے بجائے اس سے علاحدہ ہو جائے گی۔"

جارج صبرا کے مطابق ان کی تنظیم نے یہ فیصلہ شامی عوام کی موجودہ تکالیف کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔ ان کے بقول شامی نیشنل کونسل دمشق میں بشار الاسد کی سربراہی میں موجودہ حکومت کے خاتمے تک کسی قسم کی امن بات چیت میں شامل نہیں ہو گی۔

جارج صبرا کی سربراہی میں شامی قومی کونسل کا یہ تازہ موقف خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں قیام امن کی کوششوں کے لیے اس وجہ سے ایک منفی پیش رفت ہے کہ بین الاقوامی برادری کی کئی مہینوں سے کوشش ہے کہ شامی حکومت اور باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

اس سلسلے میں خاص طور پر امریکا اور روس کی قیادت میں عالمی برادری اس جدوجہد میں ہے کہ شامی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے دمشق حکومت اور شامی باغیوں کو ایک ایسی امن کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کیا جا سکے، جسے ‘جنیوا دوئم‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس امن کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں کئی مہینوں سے جاری ہیں لیکن ابھی تک اس کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔ شامی قومی کونسل کے آج کے اعلان سے قبل واشنگٹن اور ماسکو کو امید تھی کہ یہ امن کانفرنس شاید نومبر کے وسط میں منعقد کرائی جا سکتی تھی۔

اب ان امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ شامی قومی کونسل متحدہ شامی اپوزیشن میں شامل صدر اسد کی مخالف قوتوں کا ایسا سب سے بڑا گروپ ہے، جو طویل عرصے سے یہ کہتا رہا ہے کہ وہ شام کے بارے میں کسی بھی امن بات چیت میں اس وقت تک شامل نہیں ہو گا جب تک دمشق میں اسد حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

درایں اثنا بیروت سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق صدر بشار الاسد کی فوج نے ملک کے جنوبی صوبے درعا میں درایا شہر میں اتوار کے روز نئے سرے سے گولہ باری کی۔ شامی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ٹینکوں سے کی جانے والی اس گولہ باری کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ شام میں صدر اسد کے خلاف بغاوت کا آغاز اسی صوبے اور شہر سے ہوا تھا۔ آبزرویٹری کے مطابق یہ گولہ باری حکومتی دستوں کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت انہوں نے وہ اہم پوزیشنیں دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جو ان سے شامی باغیوں نے چھین لی تھیں۔