.

ریما مکبتی کا نام 100 بہترین جنگی وقائع نگاروں میں شامل

"AOAV" تنظیم کا العربیہ کی نیوز کاسٹر کی خدمات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھرمیں مسلح تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم نے "العربیہ" نیوز چینل کی نامہ نگار اور نیوز کاسٹرریما مکتبی کو جنگ کی کوریج کرنے اور مشکل حالات میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے ایک سو بہترین نامہ نگاروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

تشدد کے خلاف سرگرم عالمی تنظیم"AOAV" کے زیراہتمام شام سے جنوبی امریکا تک پھیلی مسلح لڑائیوں اور بغاوت کی تحریکوں کے دوران کوریج کرنے والے ایک سو بہترین مردو خواتین صحافیوں کی فہرست تیارکی گئی ہے، جس میں نامہ نگاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ فہرست میں نامہ نگاروں اور رپورٹروں کے علاوہ کالم نگار اور مصنفین بھی شامل ہیں جنہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگوں کے بارے میں ٹھوس معلومات پر مبنی مواد پیش کیا۔

میدان جنگ سے کوریج کرنے والے ان صحافیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ "یہ نامہ نگار تشدد اور امن کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر تشدد کے واقعات کو بے نقاب نہ کریں تو دنیا جنگوں سے بھرجائے اور انہیں ختم کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اس وقت مسلح بغاوتوں اور سال ہال سال سے جاری لڑائیوں کے بعد اگرسیاسی اورسفارتی میدان میں کوئی پیش رفت ہو رہی ہے تو یہ ان بہادر صحافی سپاہیوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔

درایں اثناء العربیہ نیوز چینل کی ہونہار نامہ نگار ریما مکتبی نے اپنے اس اعزاز کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "میں تنظیم کی شکر گذارہوں کہ اس نے مجھے بھی مشکل حالات میں بہترین صحافی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گروپ میں شامل کیا ہے۔ تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم گروپ کی جانب سے بہترین کارکردگی کا جو اعزاز مجھے دیا گیا ہے وہ دراصل "العربیہ" نیوزچینل کا اعزاز ہے جس نے مجھے سپورٹ کیا اور ہرمشکل وقت میں میری حوصلہ افزائی کی۔ مجھے امید ہے کہ عالمی سطح پرباثرصحافیوں میں شامل ہونے کا مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔ میری تمنا ہے کہ جنگیں، خون خرابہ اور معصوم لوگوں کا بہیمانہ قتل عام چاہے وہ کہیں بھی ہو وہ بند ہو، کیونکہ ہرشخص کو زندہ رہنے کا حق ہے"۔

ریما نے کہا کہ " دنیا میں کہیں بھی لڑائی جاری ہو تو اس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ڈرانے، دھمکانے، انہیں قتل اوراغواء کی دھمکیاں ملنا معمول کی بات ہے، لیکن دھمکیاں ہمارے عزم اورپیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں بلکہ ان سے ہمیں ایک نیا ولولہ اور حوصلہ ملتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ریما مکتبی نے کہاکہ میں نے شام،مصر اور کئی دوسرے گرم جنگی محاذوں کی کوریج کی۔ میں وہی کچھ بیان کیا جو میں نے دیکھا۔ میں نے دو سال امریکی ٹی وی "سی این این" کے لیے رپورٹنگ کی تووہاں بھی میں نے ہمیشہ تصویرکا اصل رخ پیش کیا۔

خیال رہے کہ العربیہ کی مرکزی نیوز کاسٹراورنامہ نگارریما مکتبی کا تعلق لبنان سے ہے۔ ریما نے سنہ 2006ء میں اسرائیل اور حزب للہ کے درمیان جنگ کے دوران کوریج کی تھی جہاں سے اس کے جوہر کھل کرسامنے آئے تھے۔ اپنے صحافتی کیریئرمیں اس نے کئی تمغے بھی حاصل کر رکھے ہیں اور امریکی ٹی وی سی این این کے ساتھ کام کا دو سالہ تجربہ بھی اس کی کارکردگی کے لیے تمغے سے کم نہیں ہے۔