اسد کے خلاف بغاوت نہ ہوتی تو گولان، شام کو لوٹا دیتے: لائبرمین

امریکا نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا فیصلہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے سابق وزیر خارجہ اور سخت گیر سیاست دان آویگڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ اگر اسد رجیم کے خلاف بغاوت نہ ہوتی تو ان کا ملک مقبوضہ وادی گولان شام کو واپس کرنے کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اب بھی وادی گولان کے بارے میں دمشق کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے اور امریکا، تل ابیب اور دمشق کے درمیان ثالثی کے ذریعے تنازعہ حل کرا سکتا ہے۔

اسرائیل کے عبرانی اخبار"معاریف" کے مطابق سابق وزیر خارجہ نے یہ بات اپنی جماعت "جیوش ہوم" کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ تل ابیب وادی گولان شام کو واپس کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا۔ قریب تھا کہ امریکی ثالثی کے ذریعے تل ابیب اور دمشق کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے پا جاتا لیکن صدر بشارالاسد کے خلاف اٹھنے والی عوامی بغاوت نے "رنگ میں بھنگ ڈال دیا"۔

اسرائیل کے حکمراں اتحاد میں شامل شدت پسند تنظیم" جیوش ہوم" کے لیڈر مسٹر لائبرمین نے کہا کہ "ہائی پروفائل" سیاسی اجلاسوں کے دوران یہ تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ اگر بشارالاسد وادی گولان کے بحیرہ طبریہ تک کے علاقوں سے دستبردار ہونے پر رضامند ہوں توان کے لیے استعمال کی جانے والی "برائی کا محور" کی اصطلاح ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے ان "ہائی پروفائل سیاسی اجلاس" کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ البتہ اخبار نے اپنی جانب سے لکھا ہے کہ عین ممکن ہے کہ یہ تجویز موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دور ہی میں پیش کی گئی ہوگی۔

خیال رہے کہ لائبرمین ماضی میں حکومت کی کلیدی وزارتوں پر متمکن رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے دور میں وہ حکومت کے اہم عہدوں فائز رہے۔ لائبرمین کے خلاف بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے باعث انہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ ان کے خلاف کرپشن کے کئی مقدمات اب بھی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پیش آئند ماہ عدالت کی جانب سے انہیں کسی قسم کا ریلیف مل جائے۔ لائبرمین کی جماعت نے سنہ 2009ء کے انتخابات میں کنیسٹ کی 15 نشستیں جیتی تھیں اور گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں "جیوش ہوم" کی کنیسٹ میں نشستوں کی تعداد 31 تک پہنچ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں