ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل کیلیے جنیوا مذاکرات کا آغاز

ایران نے تین مراحل پر مبنی تجاویز پیش کردیں، یورپی ممالک کا مثبت ریسپانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل طے کرنے کیلیے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سمیت دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ منگل کے روز شروع ہونے والےجنیوا مذاکرات میں ایرانی تجاویز کو ابتدائی طور پرمثبت ''ریسپانس'' ملا ہے ۔ اس امر کا اظہار ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک عالمی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے جنیوا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات کے ابتدائی ماحول کو مثبت قرار دیا، تاہم انہوں نے فوری طورپر تفصیلات میں جانا مناسب خیال نہیں کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دو دنوں کے لیے شروع ہونے والے ان مذاکرات کا آغاز ایرانی نمائندے کی پاور پوائنٹ پر تیار شدہ بریفنگ اور تجاویز سے ہوا ۔ جسے مغربی ممالک نے خوش دلی سے سنا۔ اس بارے میں یورپی یونین کے امور خارجہ کی سربراہ آشٹن کیتھرائن کے ترجمان مائیکل مان کا کہنا تھا'' ایران نے مذاکرات کے آغاز کیلیے بڑی مثبت تجاویز پیش کی ہیں ، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی تیار کردہ ''پریزنٹیشن'' بہت مفید تھی۔''

واضح رہے کچھ دیر کے وقفے کے بعد جنیوا مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا تو تفصیل سے آراء پیش کی گئیں۔ دو دن تک دنیا کے چھ بڑے ملک اور ایران اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے۔ ایران اور سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ارکان کے علاوہ جرمنی کا نمائندہ بھی ان مذاکرات کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں انگریزی سے آغاز کیا۔ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ''غیر ضروری بحران کا خاتمہ اور ایک نئےابھرتے افق'' کے عنوان سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

ان ذرائع کے مطابق ایران نے ایک سال کی مدت پر پھیلے تین مراحل میں اس بحران کے خاتمے کیلیے تجاویز پیش کی ہیں۔ اس موقع پر جواد ظریف نے امید ظاہر کی کہ اس ابتداء سے کم از کم ایک نقشہ کار سامنے آجائے گا۔

واضح رہے اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری دو روز قبل کہہ چکے ہیں کہ'' ایران کے ساتھ مذاکرات کی کھڑکی کھل چکی ہے۔ '' اس لیے اس ماحول میں بہتری کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

جنیوا مذاکرات کی سربراہی کرنے والی آشٹن کیتھرائن نے بھی اچھی امید کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''آگے بڑھنے کیلیے پختہ عزم کی ضرورت ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں